data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جنوب مشرقی انگلینڈ کی مسجد میں شرپسندوں نے آگ لگا دی، پولیس نے نفرت پر مبنی جرم قرار دیا

عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق جمعرات کو مانچسٹر میں یہودی عبادت گاہ پر حملے میں دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے تھے۔ اس کے ٹھیک دو دن بعد جنوب مشرقی انگلینڈ کے علاقے سسیکس میں شرپسندوں نے ایک مسجد میں آگ لگادی۔

پیس ہیون مسجد کے ترجمان نے کہا کہ یہ نفرت انگیز عمل ہماری کمیونٹی یا ہمارے قصبے کی نمائندگی نہیں کرتا۔ انھوں نے کہا، “پیس ہیون ہمیشہ ہی مہربانی، احترام اور باہمی تعاون کا مقام رہا ہے، اور ہم ان اقدار کو مجسم کرتے رہیں گے۔”

انگلش ساحلی قصبے میں مسجد کو آگ لگانے کے واقعے کی پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس نے اسے نفرت انگیز جرم قرار دیا ہے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے مسجد پر حملے کی مذمت کی۔ اسٹارمر کے ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم “پیس ہیون میں آتش زنی کے حملے سے خوفزدہ ہیں۔” ترجمان نے مزید کہا کہ “برطانیہ میں مسلم مخالف نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔”

ہنگامی خدمات نے رات تقریباً 9:45 بجے پیس ہیون مسجد میں آگ لگنے کی اطلاعات پر ردعمل ظاہر کیا۔ سسیکس پولیس کے مطابق، مسجد کے سامنے کے دروازے اور باہر کھڑی گاڑی کو نقصان پہنچا، لیکن اس شرپسندانہ کارروائی میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔

پولیس کی طرف سے اتوار کو جاری ہونے والی اس واقعے کی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ دو بالاکلوا پوش لوگ مسجد کے سامنے والے دروازے کے قریب آتے ہیں، اس سے پہلے کہ داخلی دروازے پر ایکسلرنٹ چھڑکیں اور آگ بھڑکائیں۔

ایسٹ سسیکس فائر اینڈ ریسکیو سروس کے مطابق جائے وقوعہ سے جو شواہد ملے ہیں اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا عمل ہے۔

پولیس کے مطابق ، جنوب مشرقی انگلینڈ کے علاقے سسیکس میں جائے وقوعہ اور دیگر عبادت گاہوں پر پولیس کی نفری میں اضافہ کیا گیا ہے۔

سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے حملے کی مذمت کی ہے اور لوگوں سے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔

برطانیہ کی ہوم سکریٹری شبانہ محمود نے کہا کہ یہ حملہ تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا، “اس ملک کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ وہ کئی برادریوں سے ایک قوم کی تعمیر کر سکتا ہے۔” “برطانیہ کے مسلمانوں کے خلاف حملے تمام برطانویوں اور خود اس ملک کے خلاف حملے ہیں۔”

برطانوی یہودیوں کے نائبین کے بورڈ کے صدر فل روزن برگ نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ “ہر مذہبی کمیونٹی کو خوف کے بغیر عبادت کرنے کا حق ہے۔”

یہ حملے غزہ میں اسرائیل اور حماس کی جنگ پر شدید تناؤ کے درمیان ہوا ہے۔

غزہ میں اسرائیل کے فوجی حملے کے آغاز کے بعد سے پورے برطانیہ میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے باقاعدگی سے جاری ہیں۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق پیس ہیون نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار