سندھ سالڈ وسیٹ مینجمنٹ بورڈ کی نااہلی‘ خداداد کالونی کی یوسی گندگی کے ڈھیر میں تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) خداداد کالونی کی پوری یوسی گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی ہے،سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ لاکھوں روپے وصول کرنے کے باوجود صفائی کرنے میں ناکام ہے،شہری اپنی مدد آپ کے تحت پرائیویٹ کنڈی مینوں سے صفائی کرانے پر مجبور ہیں،یوسی میں صفائی نہ ہونے کے حوالے سے ٹائون میونسپل کارپوریشن جناح خداداد کالونی وارڈ 2 یونین کمیٹی11 کے کونسلر محمّد طلحہ زولفقار نے کہا ہے کہ یو سی 11 وارڈ 2 خداداد کالونی میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی ناقص کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ نہ ہی ڈور ٹو ڈور کچرا وصول کیا جاتا ہے اور نہ ہی سندھ سالڈ کا عملہ گلیوں کی صفائی کے لئے معمور کیا گیا ہے خداداد کالونی کے زیادہ تر رہائشی گلیوں کی صفائی سمیت گھر سے کچرا اٹھانے کے لئے پرائیویٹ لوگوں کو پیسے دے کر صفائی اور کچرا اٹھوانے پر مجبور ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خداداد کالونی سندھ سالڈ
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔