خیرپور: پولیو مہم کے حوالے سے ڈویژنل ٹاسک فورس کا اہم اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خیرپور (جسارت نیوز ) ضلع خیرپور میں پولیو کے خاتمے کے لیے مہم 13 اکتوبر سے 19 اکتوبر 2025 تک چلائی جائے گی۔ اس حوالے سے ڈویژنل ٹاسک فورس کا ایک اہم اجلاس کمشنر سکھر ڈویڑن، عابد سلیم قریشی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں خیرپور، سکھر اور گھوٹکی کے افسران نے شرکت کی۔کمشنر سکھر ڈویڑن نے اجلاس میں ہدایت دی کہ اسسٹنٹ کمشنرز، مختارکار، یونین کونسل سیکریٹریز اور یو سی انچارجز کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے، اور جو افسر اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرے گا، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ مہم سے قبل ٹریننگ اور چیک لسٹ کے مطابق مؤثر مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے۔ڈپٹی کمشنر خیرپور، فیاض حسین راہوجو نے کہا کہ تمام افسران اور متعلقہ عملہ دورانِ ٹریننگ اور مہم میں اپنی ذمہ داریاں پوری طرح نبھائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مائیکرو پلاننگ، مکمل تربیت، کولڈ چین کا تحفظ، ٹیموں کی کوریج اور دیگر اہم امور کو بہتر طریقے سے انجام دینا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔