کاٹی و دیگر ٹریڈ باڈیز کی نشاندہی پر ٹیکس نادہندگان کو نیٹ میں لایا جاسکتا ہے‘ احمد کمال
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کے چیف کمشنر آئی آر ایس ، ایم ٹی او احمد کمال نے کہا ہے کہ چھوٹے صنعتکاروں اور تاجروں کو ٹیکس گوشوارے کے کوائف اور معلومات کے اندراج میں رہنمائی فراہم کرنے کیلئے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے تعاو ن سے آگاہی سیمینار منعقد کئے جائیں گے۔ کورنگی انڈسٹریل زون کے مسائل حل کرنے کیلئے کاٹی میں احمد مختار شاہانی کو فوکل پرسن تعینات کیا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی)میں صنعتکاروں سے خطاب میں کیا۔ تقریب میں کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت، ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا، سینئر نائب صدر زاہد حمید، نائب صدر محمد طلحہ، قائمہ کمیٹی کے چیئرمین طارق ملک، سابق چیئرمین و صدور جنید نقی، جوہر قندھاری، کمشنر آئی آر ایس زون ون ذوالفقار علی سید، کمشنر آئی آر ایف زون ٹو ذوالفقار علی میمن اور ایڈیشنل کمشنر امین اللہ کاکڑسمیت دیگر صنعتکار و ممبران موجود تھے۔ چیف کمشنر احمد کمال نے مزید کہا کہ کاٹی سمیت تما م ٹریڈ ایسوسی ایشنز کے تعاون سے ٹیکس کے مسائل حل کئے جاسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ کاٹی سمیت دیگر ٹریڈ ایسوسی ایشنز کی نشاندہی پر ٹیکس نا دہندہ گان کو ٹیکس نیٹ میں لایا جاسکتا ہے۔ ڈیجیٹل انوائس کے مسائل پر کاٹی سمیت انڈسٹری تجویز دے کہ کتنی مہلت چاہیے۔ احمد کمال نے مزید کہا کہ ایف بی آر کا مقصد ٹیکس ادا کرنے والوں کو ہراساں کرنا نہیں بلکہ انہیں ٹیکس ادا کرنے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتکار ایف بی آر حکام کی جانب سے ہراسگی کی شکایات براہ راست کریں تو ان کرپٹ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں کوئی نئے آڈٹ نہیں کھل رہے بلکہ جو زیر التوا آڈٹس ہیں انہیں پورا کیا جارہا ہے۔ چیف کمشنر ایم ٹی او نے کہا کہ پہلے 7 سے 8 آڈیٹرز کی مختصر ٹیم تھی لیکن اب نئی اسکیم کے تحت حکومت نئے آڈیٹرز تعینات کر رہی ہے جس سے بہت سہولت ہوگی۔ قبل ازیں کاٹی کے صدر اکرام راجپوت نے کہا کہ آڈٹ نوٹسز میں کمی اور شفافیت لائی جائے ، ٹیکس ریٹس کا خطے کے مطابق جائزہ لیا جائے ، کسٹم اور سیلز ٹیکس سسٹم کی ڈیجیٹلائزیشن وقت کی اہم ضرورت ہے۔صدر کاٹی نے کہا کہ ڈیجیٹل انوائس کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے، انوائس جمع کرانے کی آخری تاریخ گزرنے کے باوجود ڈیجیٹل انوائس جمع نہیں ہورہی ، اس سلسلے میں مزید وقت دیا جائے۔ صدر کاٹی نے کہا کہ کاٹی اور ایف بی آر (ایم ٹی او) کے درمیان صنعتکاروں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے فوکل پرسن تعینات کیاجائے۔ ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا نے کہا کہ ایف بی آر گزشتہ 40-45 سال سے ٹیکس ادا کرنے والے صنعتکاروں پر مزید ٹیکس کا دباؤ ڈال رہی ہے۔ صنعتکاروں کی بڑی تعداد اب ٹیکس ادا کرنے کے قابل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر صنعتکاربیرون ملک 184 دن کا وقت گزار کر نان ریذیڈنٹ فائلر بننے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلیک اکنامی کو ختم کرنے کے لئے نان فائلر ز کو ختم کرے اور ٹیکس نیٹ بڑھائے۔ ہم حکومت کیلئے بلا معاوضہ ود ہولڈنگ ایجنٹ بننے ہیں ، رضاکارانہ طور پر کام کرنے کے بعد حکومت سزا بھی ہمیں ہی دیتی ہے۔ زبیر چھایا نے کہا کہ حکومت اور ایف بی آر ٹیکس نادہندگان پر توجہ دے تو ریونیو کا ہدف با آسانی حاصل ہوسکتا ہے۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین طارق ملک نے کہا کہ ٹیکس اہداف بڑھانے سے زیادہ ٹیکس جمع نہیں ہوگا، اور موجودہ ٹیکس کنندگان پر اضافی بوجھ ڈالنے سے مسائل حل نہیں ہونگے، نان فائلرز آج بھی معمولی جرمانے ادا کرنے کے بعد سکون سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر صفر ریٹرن فائل کرنے والے ٹیکس کنندگان کی بڑی تعداد اور نان فائلرز کے خلاف کارروائی کرے۔ تقریب میں کاٹی کیسینئر نائب صدر زاہد حمید، نائب صدر محمد طلحہ سمیت دیگر ممبران نے بھی ایف بی آر کو اپنی تجاویز سے آگاہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ ایف بی ا ر انہوں نے کہا کہ ٹیکس ادا کرنے نے کہا کہ ا احمد کمال کرنے کے ر ٹیکس
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔