غزہ جنگ بندی کے لیے حماس کے 6 اہم مطالبات سامنے آ گئے
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
غزہ میں جنگ بندی کے لیے جاری بالواسطہ مذاکرات کے دوران فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اپنے 6 بنیادی مطالبات پیش کر دیے ہیں۔ یہ مذاکرات مصر کے شہر شرم الشیخ میں اسرائیلی نمائندوں کے ساتھ جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مصر میں امن مذاکرات جاری: حماس نے اسرائیلی فوج کے انخلا سمیت اپنے مطالبات پیش کردیے
سینیئر مذاکرات کارکے مطابق وفد سنجیدہ اور ذمہ دارانہ مذاکرات کے لیے آیا ہے اور کسی بھی معاہدے کے لیے تیار ہے، بشرطِ یہ کہ جنگ ہمیشہ کے لیے ختم ہو اور دوبارہ نہ چھڑے۔
خلیل الحیہ کے مطابق ہمیں یقین دہانی چاہیے کہ یہ جنگ دوبارہ کبھی نہیں ہوگی۔
ترجمان فوزی برہوم نے وہ 6 نکات بیان کیے جو حماس کے مطابق کسی بھی معاہدے کی بنیاد ہیں اور جن پر سمجھوتہ ممکن نہیں:
اسرائیل اور غزہ کے درمیان تمام لڑائی کا خاتمہ اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ایک مستقل اور جامع جنگ بندی فلسطینی نگرانی میں تعمیرِ نو، جس کی قیادت قومی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کرے گی معاہدے پر عملدرآمد میں رکاوٹ بننے والی تمام رکاوٹوں کا خاتمہ معاہدے کی شرائط کا غزہ کے عوام کی ضروریات اور امنگوں سے مطابقتبرہوم نے کہا کہ حماس ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ امن معاہدے کی راہ میں موجود رکاوٹیں ختم ہوں۔
ان کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف امن اور سلامتی کی ضمانت دے بلکہ اسرائیلی انخلا اور غزہ کی تعمیرِ نو کو فلسطینی نگرانی میں یقینی بنائے۔ تعمیرِ نو عوام اور ان کے مستقبل کے لیے ہونی چاہیے۔
حماس رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ جب تک انہیں یہ یقین دہانی نہیں ملتی کہ جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوگی، وہ کسی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل حماس خلیل الحیہ شرم الشیخ غزہ مذاکرات مصر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل خلیل الحیہ شرم الشیخ مذاکرات کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز