پہلی ترجیح جاری نسل کشی روکناہے، حماس کی میڈیا سے محتاط رہنے کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
غزہ:۔ اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے مصر میں جاری مذاکرات سے متعلق نشر کی گئی خبروں کی مذمت کی ہے۔ حماس نے کہا ہے کہ اسکائی نیوز عربیہ کی جانب سے مصر میں جاری مذاکرات کے دوران تحریک کے موقف سے متعلق نشر کی گئی خبریں غلط اور بے بنیاد ہیں۔
حماس نے کہا کہ یہ خبریں گمراہ کن پروپیگنڈے اور عوامی رائے میں انتشار پھیلانے کی کوشش کے زمرے میں آتی ہیں۔ تحریک حماس ایک بار پھر تمام میڈیا اداروں سے اپیل کرتی ہے کہ صحافتی ادارے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری کا ثبوت دیں۔
حماس سینئر رہنما فوزی برھوم کا کہنا تھا کہ تحریک سے متعلق درست اور مصدقہ معلومات سرکاری ذرائع ابلاغ یا سرکاری ترجمانوں کے بیانات کے ذریعے ہی حاصل کی جاسکتی ہیں۔
معرکہ طوفان الاقصیٰ کی دوسری برسی کے موقع پر حماس کے سینئر رہنما فوزی برھوم کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق حماس کی اولین ترجیح غزہ کے خلاف جاری نسل کشی کو فوری طور پر روکنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے تمام حقوق پر قائم رہنے کے وعدے کی تجدید کرتے ہیں اور اپنے بہادر عوام کی آزادی، فلاح و بہبود اور خودمختاری کی امنگوں کا دفاع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے عوام نے دو سالوں تک جس طرح صہیونی فوج کے ظلم وستم کو برداشت کیا اس کی جدید تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
انہوں نے کہا کہ گھروں سے جبری بے دخلی، جبری نقل مکانی، زندگی کی بنیادی ضروریات سے محرومی، قتلِ عام اور نیتن یاہو کی مجرمانہ کارروائیوں کے باوجود قابض اسرائیل اپنے جارحانہ مقاصد کے حصول میں بُری طرح ناکام رہا۔
انہوں نے کہا کہ اب تک 67,000سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، تقریباً 170,000 زخمی یا متاثر ہوئے اور 15,000 سے زائد لاپتہ ہیں، جن میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہے۔ اور یہ سب کچھ امریکا کی مکمل شراکت کے ساتھ اور اقوام متحدہ برادری کی مشکوک ناکامی کے سائے میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین میں تقریباً 95 فیصد عام نہتے شہری ہیں،جو اس صہیونی ریاست، اس کے تمام حمایتیوں اور عالمی برادری کے ماتھے پر ایک سیاہ دھبہ بن چکا ہے جو اس نسل کشی کے جرم پرخاموش ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔