حملہ آور کے پاس کتنے ہتھیار تھے؟ سیف علی خان مزید تفصیل بتادی
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
معروف بالی وڈ اداکار سیف علی خان نے ایک حالیہ انٹرویو میں خود پر ہونے والے جان لیوا حملے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ حملہ آور کے پاس دو چاقو تھے اور وہ ان کے بیٹے کے کمرے میں موجود تھا۔
سیف علی خان اور اکشے کمار ایک چیٹ شو ٹو مچ وِد کاجول اینڈ ٹوِنگکل کی تیسری قسط میں بطور مہمان شریک ہوں گے۔ اس شو کے دوران سیف علی خان نے اس حملے کا واقعہ یاد کیا جب وہ رواں سال کے اوائل میں اپنے باندرہ کے گھر میں شدید زخمی ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سیف علی خان 15 ہزار کروڑ کی جائیداد سے محروم ہو جائیں گے؟
اداکار نے بتایا کہ میں جے کے کمرے میں گیا تو اندھیرے میں ایک شخص کو اس کے بستر کے قریب چاقو لیے کھڑے دیکھا، میں اس پر جھپٹ پڑا اور ہماری لڑائی شروع ہو گئی۔ پھر وہ پاگل ہو گیا۔ اس کے پاس دو چاقو تھے، اور وہ مجھے ہر طرف سے کاٹنے لگا۔ اوپر سے تیمور نے مجھے دیکھا اور کہا، ’اوہ میرے خدا! کیا آپ مرنے والے ہیں؟‘ میں نے کہا، ’نہیں، مجھے ایسا نہیں لگتا۔ لیکن میری کمر میں درد ہو رہا ہے۔ میں نہیں مروں گا، میں ٹھیک ہوں‘۔
یہ واقعہ رواں سال 16 جنوری کو ممبئی کے علاقے باندرہ میں پیش آیا تھا، جب ایک شخص مبینہ طور پر چوری کی نیت سے اداکار کے گھر میں داخل ہوا۔ اس دوران اس نے سیف علی خان پر حملہ کیا اور ان کو شدید چوٹیں آئیں، جن میں ان کی ریڑھ کی ہڈی کے اوپری حصہ کو نقصان پہنچا۔ انہیں فوری طور پر لیلاوتی اسپتال لے جایا گیا، جہاں وہ پانچ دن زیر علاج رہے اور 21 جنوری کو انہیں چھٹی دے دی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سیف علی خان سیف علی خان حملہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیف علی خان سیف علی خان حملہ سیف علی خان
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔