معروف بالی وڈ اداکار سیف علی خان نے ایک حالیہ انٹرویو میں خود پر ہونے والے جان لیوا حملے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ حملہ آور کے پاس دو چاقو تھے اور وہ ان کے بیٹے کے کمرے میں موجود تھا۔

سیف علی خان اور اکشے کمار ایک چیٹ شو ٹو مچ وِد کاجول اینڈ ٹوِنگکل کی تیسری قسط میں بطور مہمان شریک ہوں گے۔ اس شو کے دوران سیف علی خان نے اس حملے کا واقعہ یاد کیا جب وہ رواں سال کے اوائل میں اپنے باندرہ کے گھر میں شدید زخمی ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: سیف علی خان 15 ہزار کروڑ کی جائیداد سے محروم ہو جائیں گے؟

اداکار نے بتایا کہ میں جے کے کمرے میں گیا تو اندھیرے میں ایک شخص کو اس کے بستر کے قریب چاقو لیے کھڑے دیکھا، میں اس پر جھپٹ پڑا اور ہماری لڑائی شروع ہو گئی۔ پھر وہ پاگل ہو گیا۔ اس کے پاس دو چاقو تھے، اور وہ مجھے ہر طرف سے کاٹنے لگا۔ اوپر سے تیمور نے مجھے دیکھا اور کہا، ’اوہ میرے خدا! کیا آپ مرنے والے ہیں؟‘ میں نے کہا، ’نہیں، مجھے ایسا نہیں لگتا۔ لیکن میری کمر میں درد ہو رہا ہے۔ میں نہیں مروں گا، میں ٹھیک ہوں‘۔

یہ واقعہ رواں سال 16 جنوری کو ممبئی کے علاقے باندرہ میں پیش آیا تھا، جب ایک شخص مبینہ طور پر چوری کی نیت سے اداکار کے گھر میں داخل ہوا۔ اس دوران اس نے سیف علی خان پر حملہ کیا اور ان کو شدید چوٹیں آئیں، جن میں ان کی ریڑھ کی ہڈی کے اوپری حصہ کو نقصان پہنچا۔ انہیں فوری طور پر لیلاوتی اسپتال لے جایا گیا، جہاں وہ پانچ دن زیر علاج رہے اور 21 جنوری کو انہیں چھٹی دے دی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سیف علی خان سیف علی خان حملہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سیف علی خان سیف علی خان حملہ سیف علی خان

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان