فیصل قریشی کا اپنی کزن صائمہ قریشی کے عورت کی کمائی سے متعلق بیان پر ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
پاکستان شوبز کی اداکارہ صائمہ قریشی کا ایک حالیہ بیان سوشل میڈیا پر بےحد وائرل ہوا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عورت کی کمائی میں برکت نہیں ہوتی۔ اب اس پر فیصل قریشی نے بھی ردعمل دے دیا ہے۔
ایک پوڈکاسٹ میں فیصل قریشی سے ان کی کزن صائمہ قریشی کے اس وائرل بیان سے متعلق سوال کیا گیا جس پر اداکار نے کہا کہ ہر ایک کا اپنا تجربہ اور نظریہ ہوتا ہے تاہم وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ عورت کی کمائی میں برکت نہیں ہوتی۔
فیصل قریشی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ایسی بہت سے خواتین ہیں جو کام کرتی ہیں اور وہ اپنی زندگی میں بہت کامیاب بھی ہیں۔ ان کے مطابق محنت سے کی گئی کمائی ہر انسان کیلئے اچھی ہوتی ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت اور محنت کی کمائی میں برکت کی کمی نہیں ہوسکتی۔
اداکار کا کہنا تھا کہ ہر شخص اپنے تجربات پر اپنی رائے قائم کرتا ہے مگر کسی کے تجربے کو چیلنج بھی نہیں کیا جاسکتا۔
یاد رہے کہ صائمہ قریشی کے عورت کی کمائی سے متعلق اس بیان پر انہیں سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عورت کی کمائی فیصل قریشی
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔