کاروباری طبقہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مسائل کے فوری حل کیلئے اقدامات جاری ہیں، وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 اکتوبر2025ء) وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے کہا ہے کہ کاروباری حضرات اور صنعتکار پاکستانی معیشت کا اہم ستون ہیں جو لوگوں کو روزگار فراہم کر کے ملکی معیشت کا پہیہ چلانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ترجمان کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی میں صنعت و تجارت کے نمایاں کردار کے پیش نظر کاروباری برادری کے مسائل کے فوری حل پرخصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
وہ گزشتہ روز گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پر ایک تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں صنعت و تجارت سے وابستہ شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔وفاقی محتسب نے کہا کہ وفاقی حکومت کے تقریباً 200 سے زائد ادارے ان کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں جن کے خلاف گزشتہ سال دو لاکھ 23 ہزار سے زیادہ شکایات نمٹائی گئیں۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کی وفاقی اداروں کی بدانتظامی سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے ان کے دروازے چوبیس گھنٹے کھلے ہیں۔
چیمبر آف کامرس کے عہدیداران نے وفاقی محتسب کو بجلی اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور برآمدات میں کمی جیسے مسائل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بزنس کمیونٹی کے مسائل حل ہو جائیں تو ملک کی معیشت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے صنعت و تجارت کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور تعاون اور موثر کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی محتسب کے دفتر میں آن لائن شکایت درج کرانے کی سہولت بھی موجود ہے جبکہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے 25 علاقائی دفاتر اور شکایات مراکز کام کر رہے ہیں جن سے عوام بھرپور استفادہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب کے پاس آنے والے 99 فیصد شکایت کنندگان غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو وکیلوں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، لیکن یہ ادارہ ان کے مسائل مفت اور جلد از جلد حل کرتا ہے۔وفاقی محتسب نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کی انفرادی شکایات پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔قبل ازیں انہوں نے گوجرانوالہ کے علاقائی دفتر کے دورے کے دوران اجلاس کی صدارت کی اور میڈیا نمائندگان کو بتایا کہ رواں سال اب تک دو لاکھ سے زائد شکایات موصول ہو چکی ہیں جبکہ امکان ہے کہ سال کے اختتام تک یہ تعداد اڑھائی لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب کے مسائل کر رہے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔