کامن ویلتھ پارلیمنٹری کانفرنس میں گیلانی خاندان کی نمائندگی: ملکی پارلیمانی تاریخ کا منفرد وقوعہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
بارباڈوس میں 68 ویں کامن ویلتھ پارلیمنٹری کانفرنس (سی پی سی) میں اس سال پاکستان کی نمائندگی ایک تاریخی اور منفرد پہلو کی حامل رہی جہاں ملک کے 3 مختلف قانون ساز ایوانوں کی نمائندگی ایک ہی خاندان یعنی گیلانی فیملی نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا غیر متوقع فیصلہ، گیلانی برادران کو فراہم کردہ 9 سالہ سیکیورٹی واپس لے لی
چیئرمین سینیٹ پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ (ایوان بالا)، ان کے صاحبزادے اور رکن قومی اسمبلی سید عبدالقادر گیلانی نے قومی اسمبلی (ایوانِ زیریں) جبکہ دوسرے صاحبزادے اور رکن پنجاب اسمبلی سید علی حیدر گیلانی نے صوبائی اسمبلی پنجاب کی نمائندگی کی۔
مزید پڑھیے: ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان پر اعتماد کر رہے ہیں، قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی
گیلانی خاندان کی اس مشترکہ شرکت نے نہ صرف پاکستان کے وفاقی جمہوری ڈھانچے کے تسلسل اور ہم آہنگی کو اجاگر کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پارلیمانی سفارت کاری کی متحرک موجودگی کو بھی نمایاں کیا۔
مزید پڑھیں: قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی کی سیلاب متاثرین کے لیے عالمی اداروں سے امداد کی اپیل
کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن کے اس اہم اجلاس میں گیلانی خاندان کی نمائندگی نے پاکستان کے تینوں ایوانوں بشمول سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی متحدہ آواز کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ایک نادر موقع فراہم کیا۔ یہ لمحہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں ایک نمایاں باب واقعہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کامن ویلتھ پارلیمنٹری کانفرنس گیلانی خاندان گیلانی خاندان کا اعزاز گیلانی فیملی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کامن ویلتھ پارلیمنٹری کانفرنس گیلانی خاندان گیلانی خاندان کا اعزاز گیلانی فیملی گیلانی خاندان کی نمائندگی
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔