Nawaiwaqt:
2026-06-03@01:40:36 GMT
لندن ہائیکورٹ نے بریگیڈیئر(ر) راشد نصیر کے حق میں فیصلہ سنایا، عادل راجہ کیخلاف مقدمہ جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
برطانوی عدالت نے عادل راجہ کو بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کو 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق عادل راجہ کوہرجانے اورعدالتی اخراجات کی مد میں13کروڑروپے دیناہوں گے۔ لندن ہائیکورٹ کے جج نے فیصلے میں کہا کہ عادل راجہ نے بریگیڈیئر(ر)راشد نصیرکوبدنام کیا،جھوٹے الزامات لگائے۔ عدالت نے عادل راجہ کو بریگیڈیئر(ر)راشدنصیرکو50ہزارپاؤنڈ ہرجانہ اداکرنے کاحکم دیا۔اس کے علاوہ عادل راجہ کو بریگیڈیئر(ر)راشد نصیر کوعدالتی اخراجات کےتقریباً3لاکھ پاؤنڈ بھی دینے کاحکم دیا گیا ہے۔ عدالت کی جا نب سے عادل راجہ کواپنے تمام میڈیاپلیٹ فارم پر راشد نصیر کےکیس جیتنےکی خبربھی دینےکاحکم دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عادل راجہ کو بریگیڈیئر ر
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔