گوگل کا زبردست اعلان! پاکستانی طلبہ کے لیے عالمی سطح کے مواقع
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے پاکستان میں 18 سال یا اس سے زائد عمر طلبہ کے لیے ایک سالہ مفت ’گوگل اے آئی پرو پلان‘ کا اعلان کردیا ہے۔جمعرات کو گوگل نے پاکستانی طلبہ کے لیے شاندار تعلیمی پیشکش کا اعلان کرتے ہوئے مفت “گوگل اے آئی پرو پلان” فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے. یہ سہولت 18 سال یا اس سے زائد عمر کے طلبہ کے لیے دستیاب ہوگی۔گوگل نے کہا کہ یہ پیشکش ایک سال کے لیے بلا معاوضہ سبسکرپشن پر مشتمل ہوگی، جس کا مقصد تعلیم، تحقیق اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔اس پروگرام کے تحت طلبہ کو جدید اے آئی ٹولز اور فیچرز تک رسائی حاصل ہوگی، جن میں جیمنائی 2.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: طلبہ کے لیے گوگل نے اے آئی
پڑھیں:
امریکا ایران مذاکرات میں تعطل کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ
عالمی منڈی میں خام تیل(crude oil) کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل اور مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 1 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی بڑھ کر 95 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ خلیجی معیار کے مطابق یو اے ای کا مربن کروڈ آئل بھی 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں یہ اضافہ صرف سیاسی کشیدگی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس میں سپلائی چین سے متعلق خدشات اور عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی طلب بھی شامل ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جس کا اثر عالمی معیشتوں پر بھی پڑے گا۔
پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں اضافہ برقرار رہنے کی صورت میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
ادھر حکومتیں اور توانائی مارکیٹس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ سرمایہ کار مستقبل کی پالیسیوں اور جغرافیائی حالات کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔