لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر نے عادل راجہ کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ جیتنے کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ "آج میں سرخرو ہوا ہوں۔ تین سال کی طویل اور سخت عدالتی جنگ کے بعد آخرکار انصاف  کی جیت ہوئی۔"

صحافی مرتضیٰ علی شاہ کے مطابق اپنے بیان میں بریگیڈیر (ر) راشد نصیر نے  کہا کہ "یہ فیصلہ اُن تمام لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے جو جھوٹ بول کر، نفرت پھیلا کر اور دوسروں کی کردار کشی کر کے سنسنی خیز ڈرامے بناتے ہیں ، یاد رکھیں، دنیا کے کسی بھی ملک کی عدالت آپ کا ساتھ نہیں دے گی، چاہے وہ پاکستان ہو یا بیرونِ ملک۔"

عمران خان کی ہدایت پر پنجاب اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹیوں سے استعفے آنا شروع ، اپوزیشن رکن شیخ امتیاز محمود نے استعفیٰ دے دیا

بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر نے لندن ہائی کورٹ کے جج رچرڈ اسپیئر مین کے سی  کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے فیصلے کے شکر گزار ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے وکیل بیریسٹر ڈیوڈ لیمر اور اسٹون وائٹ سولیسٹرز کی ٹیم، عشرت سلطانہ اور صادیہ قریشی کی محنت اور لگن کو بھی سراہا۔

انہوں نے کہا کہ "یہ کامیابی صرف میری نہیں، بلکہ اُن تمام افراد کی جیت ہے جنہیں ایسے کرداروں نے بدنیتی سے نشانہ بنایا۔"

واضح رہے کہ لندن ہائی کورٹ نے بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے خلاف عادل راجہ کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کو جھوٹا، بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے فیصلہ بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے حق میں سنایا ہے۔

عمران خان کا حکم سر آنکھوں پر، سٹینڈنگ کمیٹیاں تو کیا ہماری جان بھی مانگیں تو حاضر ہے،اپوزیشن لیڈر معین قریشی

عدالتی فیصلے کے مطابق، جج نے عادل راجہ کو حکم دیا ہے کہ وہ بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کو  ساڑھے تین لاکھ پاؤنڈ (تقریباً 14 کروڑ پاکستانی روپے) بطور ہرجانہ ادا کریں۔یہ مقدمہ جون 2022 میں دائر کیا گیا تھا۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • الیکشن مہم‘ سلمان اکرم راجہ کو دیامر سے واپس بھیج دیا گیا
  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں