بھارتی جیلوں سے رہائی پانے والے پاکستانی ماہی گیر وطن واپس پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
سمندری حدود کی خلاف ورزی پر گرفتار ہوکر قید ہونے والے پاکستانی ماہی گیر رہائی کے بعد وطن واپس پہنچ گئے۔
بھارت سے رہا ہونے والے پاکستانی ماہی گیر واہگہ بارڈر کے راستے وطن واپس پہنچے اور انہیں ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کیا گیا۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے چیئرمین فیصل ایدھی کی ہدایت پر رہائی پانے والے تمام ماہی گیروں کو ایدھی کی اسپیشل گاڑیوں کے ذریعے لاہور سے کراچی روانہ کیا جائے گا۔
ترجمان ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق ماہی گیروں کو سمندری حدود کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا اور یہ بھارتی جیلوں میں قید تھے۔بھارتی جیلوں سے رہائی پانے والے پاکستانی ماہی گیر وطن واپس پہنچ گئے
تمام ماہی گیروں کو ایدھی کی اسپیشل گاڑیوں کے ذریعے لاہور سے کراچی روانہ کیا جائے گا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وطن واپس
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔