پی ٹی آئی میں متوقع تبدیلیوں کے حوالے سے بیرسٹر گوہر کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے پارٹی میں بڑی تبدیلیوں کے حوالے زیر گردش خبروں کو افواہ قرار دے دیا۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ ساری افواہ ہے، ہماری پارٹی مضبوط ہے اور پارٹی چئیرمین شپ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک چیز بتاتا ہوں کہ یہ وہ لوگ کررہے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس عددی اکثریت ہے، واضح کردوں کہ میں اگر استعفیٰ بھی دے دوں تو ہماری پارٹی مکمل ختم ہوجائے گی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میری چئیرمین شپ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اگر آج میں استعفی دو پی ٹی آئی کا پارٹی ہیڈ سے فارغ ہوجائے گی اورسپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پارٹی ختم ہوجائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو علی امین گنڈا پور سے صوبے میں امن امان اور دہشت گردی کے معاملات پر تحفظات تھے جبکہ نیا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ہیں جنہیں بانی پی ٹی آئی نے نامزد کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری گورنر خیبرپختونخوا سے درخواست ہے وہ استعفی قبول کریں تاکہ پرامن انتقال اقتدارہو، ہماری پارٹی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی تبدیلی پر میرے ساتھ کوئی ڈسکشن نہیں ہوئی ہے، بہت سارے فیصلوں پر خان صاحب مشورہ نہیں کرتے جبکہ وزیراعلیٰ کی تبدیلی بانی کا فیصلہ ہے جو پارٹی کو قبول ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی میں بڑی تبدیلیاں متوقع، نئے چیئرمین کا نام بھی سامنے آگیا
قبل ازیں ذرائع نے بتایا تھا کہ خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے بعد پی ٹی آئی میں بڑی تبدیلیوں کا امکان ہے اور مرکزی سطح پر قیادت میں بھی تبادلے ہوسکتے ہیں۔
ذرائع نے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کی تبدیلی کا امکان ظاہر کیا تھا۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کافی دنوں بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی، بانی پی ٹی آئی ٹھیک اور ہائی اسپرٹ میں ہیں، بانی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کا ٹرائل مکمل ہوگیا ہے، 13 اکتوبر کو حتمی دلائل ہوں گے اور امید ہے منگل یا بدھ تک فیصلہ آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف یہ پانچواں بوگس کیس ہے، یہ سارے مقدمات سیاسی ہیں تاکہ بانی کو اندر رکھا جائے۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ عمران خان نے کہا ہے علی امین گنڈا پور ان کا وفادار ساتھی ہے اور ان کا مضبوط امیدوار تھا، بانی کو صوبے میں فوجی آپریشنز پر شدید تحفظات تھے اور کہا کہ سیاسی حکمت عملی کے بغیر کوئی آپریشن کامیاب نہیں ہوسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے آپریشنز پر کہا ہماری پارٹی اور صوبہ ان چیزوں کا متحمل نہیں۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کی تبدیلی کی ٹرانزیشن جلد سے جلد مکمل ہو، نئے وزیر اعلیٰ کے منصب سنبھالنے کے بعد بانی کابینہ کے نام فائنل کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پنجاب اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹیوں سے فوری مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے، پنجاب میں پی ٹی آئی کے پاس 14 اسٹینڈنگ کمیٹیاں ہیں، بانی نے تمام اسٹینڈنگ کمیٹیوں سے استعفیٰ دینے کی ہدایت کی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ہماری پارٹی کی تبدیلی تھا کہ
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔