پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ ٹیلیفونک رابطے میں دونوں راہنماؤں نے نہ صرف سیاسی معاملات بلکہ خارجہ پالیسی اور حالیہ سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سرگرمیوں پر بھی گفتگو کی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ ٹیلیفونک رابطے میں دونوں راہنماؤں نے نہ صرف سیاسی معاملات بلکہ خارجہ پالیسی اور حالیہ سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سرگرمیوں پر بھی گفتگو کی۔

یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اتحادی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان حالیہ سیلابی صورتحال پر امدادی اقدامات کو لے کر بیانات کی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے، دونوں پارٹیوں جانب سے ایک دوسرے پر تنقید روزانہ کی بنیاد پر پریس کانفرنسوں اور بیانات کے ذریعے کی جا رہی ہے۔صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری جیسے سینیئر راہنماؤں نے مداخلت کی ہے تاکہ تناؤ کو کم کیا جا سکے، صدر زرداری نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی رابطہ کیا ہے اور معاملہ سلجھانے میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی

پڑھیں:

گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف

مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹو

مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔

گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟

نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔

نواز شریف کی زیرصدارت پارلیمانی بورڈ اجلاس، جی بی الیکشن کے لیے امیدواروں پر مشاورت

اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔

اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔

وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔

ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف