اب ملیں گی سستی گاڑیاں! انڈس موٹرز کا حیران کن فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
معروف آٹو کمپنی انڈس موٹرز نے استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ملک کی آٹو انڈسٹری میں ایک بڑی تبدیلی قرار دی جا رہی ہے۔ کمپنی نے یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت ملنے کے بعد کیا ہے۔
دستاویزی کارروائی پر مشاورتانڈس موٹرز نے اس سلسلے میں انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB) سے رابطہ کر لیا ہے تاکہ درآمدی عمل سے متعلق تمام قواعد، ضوابط اور دستاویزی تقاضوں کی وضاحت حاصل کی جا سکے۔
مقامی پیداوار جاری رہے گیکمپنی نے واضح کیا ہے کہ وہ مقامی سطح پر گاڑیوں کی اسمبلی بند نہیں کرے گی۔ مقامی پیداوار کے تسلسل کا مقصد روزگار کے مواقع برقرار رکھنا اور مقامی صنعت کو سہارا دینا ہے۔ تاہم کمپنی اب استعمال شدہ گاڑیوں کی مارکیٹ میں بھی باقاعدہ داخل ہونے جا رہی ہے۔
مختلف ماڈلز کی درآمد کا منصوبہانڈس موٹرز کے سی ای او علی اصغر جمالی کے مطابق، جیسے ہی قانونی اور تکنیکی امور طے پا جائیں گے، کمپنی تمام اقسام کی گاڑیاں درآمد کرے گی۔
قیمتوں کا فرق کب واضح ہو گا؟جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑیاں مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں سے سستی ہوں گی، تو علی اصغر جمالی نے کہا کہ یہ فرق اس وقت واضح ہو گا جب درآمدی عمل باضابطہ طور پر شروع ہو جائے گا۔
ملک گیر سروس نیٹ ورک تیارانڈس موٹرز کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ملک بھر میں 58 ڈیلرشپس کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے جہاں تربیت یافتہ انجینئرز اور ٹیکنیشنز تعینات ہیں، تاکہ درآمدی گاڑیوں کے خریداروں کو بہترین آفٹر سیلز سروس فراہم کی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: استعمال شدہ گاڑیوں کی
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔