وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت سپیشل ایجوکیشن کے حوالے سے اہم اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت سپیشل ایجوکیشن کے حوالے سے اہم اجلاس، پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مختصر ترین مدت میں خصوصی بچوں کے 5 ہزار سے زائد داخلے کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے معاون خصوصی ثانیہ عاشق اور پوری ٹیم کو شاندار کارکردگی پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کا واضح فیصلہ،غریب بچوں کو مریم نواز آٹزم سکول میں مکمل طور پر مفت تھراپی اور تعلیم دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر دنیا بھر سے بہترین ماہرین آٹزم کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں خصوصی بچوں کو ہمّت کارڈ پروگرام میں شامل کرنے کا اصولی فیصلہ کیا۔ سپیشل ایجوکیشن مراکز کیلئے مزید 48 نئی بسوں کی فراہمی کی منظوری بھی دی گئی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے آٹزم اسکول کے بچوں، اساتذہ اور سٹاف کے لیے یونیفارم اور ڈیزائن کی بھی منظوری دی۔ 13 رکنی بورڈ آف گورنرز کی تشکیل اورآٹزم ریسورس سینٹر کے تین سالہ سٹرٹیجک پلان کی منظوری دی گئی۔ معاون خصوصی ثانیہ عاشق نے اجلاس میں تفصیلی بریفنگ دی۔ مریم نواز آٹزم سکول میں ایک کسٹمائزڈ ماڈل نافذ کیا جا رہا ہے۔ نصاب تعلیم کا کسٹمائزڈ ماڈل دنیا کے مختلف ممالک میں کامیابی سے رائج ہے ۔ ثبوت پر مبنی (Evidence-Based) آٹزم ماڈلزاور بین الاقوامی ریسرچ سٹڈی کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ سکول کے لیے ایک جامع فنکشنل گرین نصابِ تعلیم بھی تیار کیا گیا ہے۔ شنل گرین نصابِ تعلیم میں کمیونیکیشن و لینگویج، لائف اسکلز، اسلامی و اخلاقی تعلیم، ٹیکنالوجی، جسمانی تعلیم اور سماجیات شامل ہیں ۔ پاکستان کے پہلے آٹزم سکول میں اوپن جم، واکنگ ٹریک، سنسری گارڈن اور ساؤنڈ تھراپی سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ یہاں 3 سے 16 سال تک کے بچوں کو داخلہ دیا جائے گااور مریم نواز آٹزم سکول اینڈ ریسرچ سینٹر میں بچے 22 سال کی عمر تک زیرِ تعلیم و زیرِ علاج رہ سکیں گے۔سکول کے لیے خصوصی ہائبرڈ ماڈل تیار کیا گیا ہے،جس کے تحت بچوں کو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں تصویری اور تحریری تھراپی دی جائے گی۔ بچوں کے والدین کے لیے بھی کوچنگ ماڈیولز تیار کر لیے گئے ہیں تاکہ گھر اور سکول کے درمیان بہتر ہم آہنگی قائم کی جا سکے۔آٹزم سکول میں بچوں کی سکلز اور حفاظت کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ چلڈرن ویلفیئر آفیسرز سپیشل بچوں کی حفاظت اور فلاح کی براہِ راست نگرانی کریں گے۔ سکول میں ریسرچ اینڈ ٹیچر ٹریننگ ڈویژن بھی قائم ہوگا۔ ریسرچ اینڈ ٹیچر ٹریننگ ڈویژن میں ماسٹر ٹرینرز اساتذہ کو جدید تربیت فراہم کریں گے۔ ریسرچ اینڈ ٹیچر ٹریننگ ڈویژن میں ایک سالہ ڈپلومہ اور سرٹیفکیٹ پروگرامز بھی شروع کیے جائیں گے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز شریف آٹزم سکول میں سکول کے بچوں کو کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔