ہارڈویئر کے کاروبار سے سندھ اسمبلی کے اسپیکر تک کا سفر، آج انتقال کرنے والے سراج الدین درانی کون تھے؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
آج 72 سال کی عمر میں انتقال کرنے والے آغا سراج درانی سندھ کی سیاست کا ایک نمایاں نام تھے جو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سرکردہ رہنما کی حیثیت سے سندھ کی سیاست میں کئی دہائیوں سے فعال رہے۔
آغا سراج درانی 2013 سے 2024 تک سندھ اسمبلی کے اسپیکر کے اہم آئینی عہدے پر فائز رہے۔ ان کا یہ عہدہ ان کے کیریئر کا ایک نمایاں دور رہا، آغا سراج درانی مختصر مدت کے لیے سندھ کے قائم مقام گورنر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: پیپلز پارٹی کے اویس قادر شاہ سندھ اسمبلی کے بارہویں اسپیکر منتخب
اپنے سیاسی سفر کے دوران، وہ سندھ میں بلدیات اور دیگر محکموں میں صوبائی وزیر کے طور پر بھی فرائض سرانجام دیے۔
آغا سراج درانی کا تعلق سندھ کے ضلع شکارپور کے گڑھی یاسین کے ایک سیاسی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد، آغا صدرالدین اور چچا آغا بدرالدین بھی سندھ اسمبلی کے اسپیکر رہ چکے ہیں، اس طرح ان کے خاندان کو 3 نسلوں تک اسمبلی کی صدارت کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔
انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی کے سینٹ پیٹرک ہائی اسکول سے حاصل کی اور بعد میں سندھ مسلم لا کالج سے ایل ایل بی (قانون کی ڈگری) مکمل کی۔ 1980 کی دہائی میں وہ کچھ عرصے کے لیے امریکا میں ہارڈویئر کا کاروبار بھی کرتے رہے۔ وہ 1988 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہو کر باقاعدہ سیاست میں آئے۔
سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ، آغا سراج درانی اور ان کے خاندان کو آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ بدعنوانی کے الزامات کے تحت قومی احتساب بیورو (نیب) کی طرف سے مختلف ریفرنسز کا بھی سامنا رہا ہے۔ وہ اس سلسلے میں قانونی چارہ جوئی اور عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں، جو ان کے کیریئر کا ایک متنازعہ پہلو رہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
siraj durrani پی پی پی رہمنا سراج درانی سندھ اسمبلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی پی پی رہمنا سندھ اسمبلی سندھ اسمبلی کے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔