صدر مملکت، وزیراعلی سندھ، گورنرسندھ، صوبائی وزراء سمیت دیگر رہنماؤں کا گہرے دکھ کا اظہار سراج درانی 4 دہائیوں سے زائد پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے، 3 مرتبہ صوبائی وزیر اور 2 مرتبہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر رہے

…….

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی 72 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں، خاندانی ذرائع کے مطابق آغا سراج درانی طویل عرصے سے علیل تھے اور کراچی کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج تھے،

آغا سراج درانی کی حالت کئی ہفتوں سے تشویش ناک تھی، ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے۔

ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی پیپلزپارٹی کے رہنماؤں، کارکنوں اور عوامی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ آغا سراج درانی کا شمار سندھ کی سیاسی دنیا کی قد آور شخصیات میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے کیا اور کئی دہائیوں تک پارٹی کے ساتھ وابستہ رہے۔

وہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ، گورنرسندھ کامران ٹیسوری، سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن، اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادرشاہ، صوبائی وزراء، پارلیمنٹرنز اورپارٹی رہنماؤں نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آغا سراج درانی کو ایک ماہ قبل برین ہیمبرج ہوا تھا جس کے باعث انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور پھر چند روز قبل دوبارہ ان کی طعیبت خراب ہو گئی تاہم بدھ کو ڈاکٹرز نے ان کے انتقال کی تصدیق کردی۔

ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان میں آغا سراج درانی کے انتقال کی خبر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی سیاسی اور جمہوری خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اپنے ایک جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ آغا سراج درانی پیپلز پارٹی کے مخلص، وفادار اور اصول پسند رہنما تھے۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے آغا سراج درانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آغا سراج نے سندھ اسمبلی کی مضبوطی اور جمہوریت کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا، مرحوم آغا سراج درانی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، انہوں نے عوامی خدمت کو اپنی سیاست کا محور بنایا۔انہوں نے کہا کہ رب کائنات مرحوم آغا سراج درانی کے درجات بلند فرمائے، وزیراعلی سندھ کی مرحوم کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور صبر جمیل کی دعا کی۔

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے انہوں نے آغا سراج درانی کی سیاسی، پارلیمانی اور عوامی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔گورنر سندھ نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اوردعاکی کہ اللہ تعالی مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلی مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بھی آغا سراج درانی کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا اور اور کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ کے عوام کے لئے آغا سراج درانی کی سیاسی سماجی خدمات ناقابل فراموش ہیں، آغا سراج درانی ایک باوقار، وفادار اور تجربہ کار سیاسی رہنما تھے جنہوں نے ہمیشہ صوبے کے عوام کی خدمت کو اپنا مقصد بنایا۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آغا سراج درانی نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک مخلص کارکن تھے بلکہ وہ جمہوری روایات کے علمبردار بھی تھے، آغا سراج درانی کی پوری زندگی عوامی خدمت، جمہوریت کی بالادستی اور عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد میں گزری۔ انہوں نے کہا کہ آغا سراج درانی کی سیاسی بصیرت، انتظامی صلاحیت اور پارلیمانی تجربہ پارٹی کے لیے ایک قیمتی اثاثہ تھا، آغا سراج درانی کی وفات سے نہ صرف پیپلز پارٹی بلکہ سندھ کی سیاست میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے جو مدتوں پر نہیں ہو سکے گا۔ سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں مرحوم آغا سراج درانی کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، اللہ تعالی مرحوم آغا سراج درانی کو بلند درجات اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے بھی سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ آغا سراج درانی کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم آغا سراج درانی نے جمہوریت کے استحکام اور عوامی نمائندگی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا، آغا سراج درانی جیسے بااصول سیاستدان کم پیدا ہوتے ہیں۔

خاندانی ذرائع کے مطابق آغا سراج درانی طویل عرصے سے علیل تھے اور کراچی کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔آغا سراج درانی 5 اکتوبر 1953 کوشکار پورمیں پیدا ہوئے، انہوں نے سینٹ پیٹرک ہائی اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی،سندھ مسلم گورنمنٹ لا ء کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ آغا سراج درانی 4 دہائیوں سے زائد پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے، وہ 3 مرتبہ صوبائی وزیر اور 2 مرتبہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر رہے، ان کا شمار شہید بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کے بااعتماد ساتھیوں میں ہوتا تھا۔آغا سراج درانی31 مئی 2013 سے 25 مئی 2024 تک اسپیکر سندھ اسمبلی رہے، وہ مارچ 2022 سے اکتوبر 2022 تک قائم مقام گورنر سندھ کے عہدے پر بھی تعینات رہے۔آغا سراج درانی 1988 میں پہلی بار رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی آغا سراج درانی کے انتقال پر کہا کہ آغا سراج درانی آغا سراج درانی کی انہوں نے کہا کہ وزیراعلی سندھ پیپلز پارٹی پارٹی کے کی سیاسی کیا اور

پڑھیں:

اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب

پنجاب اسمبلی (فائل فوٹو)۔

اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے  کے لیے پنجاب اسمبلی میں ارکان کے لیے جدید ٹیبلٹس انسٹال کر دییے گئے۔ 

لاہور سے ترجمان پنجاب اسمبلی کےمطابق  صوبائی اسمبلی کا اگلا اجلاس پیپر لیس ہو گا، 380 ٹیبلٹس یورپین یونین کے آئی پی 5 پروگرام کے تحت پنجاب اسمبلی کو فراہم کیے گئے۔ 

ترجمان کے مطابق ایپلیکیشن پی آئی ٹی بی نے محکمہ قانون اور اسمبلی آئی ٹی ٹیم کی مشاورت سے تیار کیا، جو صرف اسمبلی کارروائی کے لیے ہے۔ 

چوہدری عامر حبیب کے مطابق اس فیصلہ سے گرین انرجی کے تحت توانائی کی بچت بھی ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
  • میر واعظ عمر فاروق کا متعدد شخصیات کی رحلت پر اظہار تعزیت
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • گورنر سٹیٹ بنک کے بھائی آصف جاوید انتقال کر گئے
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار