پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی انتقال کرگئے agha siraj durrani WhatsAppFacebookTwitter 0 15 October, 2025 سب نیوز

کراچی (آئی پی ایس) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور طویل عرصے تک اسپیکر سندھ اسمبلی رہنے والے آغا سراج درانی انتقال کر گئے۔

آغا سراج درانی کو ایک ماہ قبل برین ہیمبرج ہوا تھا جس کے باعث انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور پھر چند روز قبل دوبارہ ان کی طعیبت خراب ہو گئی تاہم آج ڈاکٹرز نے ان کے انتقال کی تصدیق کردی۔

ایوان صدر کی جانب سے بھی آغا سراج درانی کے انتقال کی خبر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی سیاسی اور جمہوری خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے مرحوم کے لیے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔

شہبازشریف کا کہنا تھا آغا سراج درانی نے بطور اسپیکر سندھ اسمبلی اہم خدمات سر انجام دیں، آغا سراج درانی کی سیاسی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی آغا سراج درانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آغا سراج درانی پیپلز پارٹی کے مخلص، وفادار اور اصول پسند رہنما تھے، آغا سراج نے سندھ اسمبلی کی مضبوطی اور جمہوریت کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا، مرحوم کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

آغا سراج درانی 31 مئی 2013 سے 25 مئی 2024 تک اسپیکر سندھ اسمبلی رہے، وہ مارچ 2022 سے اکتوبر 2022 تک قائم مقام گورنر سندھ کے عہدے پر بھی تعینات رہے۔

آغا سراج درانی چار دہائیوں سے زائد پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے، 1988 میں پہلی بار رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے، تین مرتبہ صوبائی وزیر اور دو مرتبہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر رہے، ان کا شمار شہید بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کے با اعتماد ساتھیوں میں ہوتا تھا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبردنیا بھارت کو سرحد پار دہشتگردی اور علاقائی عدم استحکام کا مرکز تسلیم کرتی ہے، آئی ایس پی آر مزید 4 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے سپرد، غزہ میں امدادی قافلوں کیلئے رفح بارڈر آج کھولا جائیگا افغان طالبان کی جانب سے پاکستان پر حملے میں ایلبرس میزائل سسٹم کے استعمال کا شبہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل دوبارہ شروع اسلام آباد میں ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں، میٹرو بس سروس بھی مکمل بحال پاکستان 2026 تا 2028 اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب افغان قیادت سے رابطے ہوئے ہیں، معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتے ہیں: فضل الرحمان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اسپیکر سندھ اسمبلی ا پیپلز پارٹی کے

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے