سپن بولدک چمن: پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے حملوں کو ناکام بنادیا ،20ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
(احمد منصور)پاک فوج نے سپن بولدک چمن میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے حملوں کو ناکام بنا دیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جانب سے 3 مقامات پر علی الصبح حملہ کیا گیا، پاک فوج کی جوابی کارروائی نے ان افغان طالبان کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد دیہات اور معصوم لوگوں کو بطور ڈھال استعمال کر رہے ہیں، موصول اطلاعات کے مطابق 15 سے 20 افغان طالبان کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
گندم پالیسی کا نیا ڈرافٹ چاروں صوبوں کو رائے کے لیےبھجوادیاگیا
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے پاک افغان دوستی گیٹ کو اپنی طرف سے اڑا دیا، گیٹ کو تباہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ افغان طالبان تجارت اور مقامی آمددورفت کے حامی نہیں ہیں۔
پاک فوج نے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے کل رات کرم سیکٹر پر حملے کی کوشش بھی ناکام بنائی تھی، کرم سیکٹر پر جوابی حملے میں افغان طالبان کی 8 پوسٹیں اور 6 ٹینک بمعہ عملہ تباہ کی گئیں۔
لاہور بورڈ کا امتحانی پرچوں کی ری چیکنگ کے طریقہ کار میں تبدیلی لانے کا فیصلہ
پاک فوج نے کرم سیکٹر میں متعدد دہشت گردوں کو ہلاک اور امریکی ساخت اسلحہ قبضے میں لیا، پاک فوج کی جانب سے منہ توڑ جواب کے بعد کرم سیکٹر میں اس وقت خاموشی ہے، اسپن بولدک میں مزید افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے اکٹھے ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
.ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے پاک فوج نے کرم سیکٹر
پڑھیں:
وائٹ ہاؤس پر فائرنگ کا واقعہ؛ افغان طالبان رجیم پوری دنیا کے امن کےلیے سنگین خطرہ
افغان طالبان رجیم پوری دنیا کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن گئی جب کہ واشنگٹن میں فائرنگ کا واقعہ ایک بڑے عالمی پیٹرن کا حصہ دکھائی دیتاہےجہاں افغان نژاد نیٹ ورکس دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں۔
افغان نیٹ ورکس یورپ اور شمالی امریکہ تک پھیل چکے ہیں جو کہ افغانستان کا عدم استحکام اب وہاں پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں، افغان طالبان رجیم صرف افغانستان کے لئے نہیں بلکہ پورے دنیا کی سیکیورٹی کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے قریب رحمان اللہ لاکانوال نے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا، ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق رحمان اللہ 2021 میں آپریشن الائیز ویلکم کے تحت امریکہ آیا تھا۔
سی این این اس مشتبہ شخص نے 2024 میں پناہ کی درخواست دی تھی، جو اپریل 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے منظور کر لی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق؛ امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن کی تمام درخواستیں غیر معینہ مدت کے لیے روک دیں ہیں، یورپی یونین انسٹی ٹیوٹ آف سیکیورٹیز اسٹیڈیز کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم نے ملک میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے اراکین کو افغان پاسپورٹ جاری کئے۔
یورپی یونین انسٹی ٹیوٹ آف سیکیورٹیز اسٹیڈیز نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کے دہشتگرد گروہوں سے بڑھتے تعلقات داخلی استحکام اور پڑوسی ممالک کیلئے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل کی رپورٹ کے مطابق؛ افغان طالبان رجیم کا دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا خطے کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے، پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک پہلے ہی افغان طالبان رجیم کی دہشتگردوں کیلئے پشت پناہی پر خدشات ظاہر کرچکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ڈنمارک اور روس نے فتنہ الخوارج کے مذموم عزائم سے عالمی برادری کو خبردار کر دیا ہے، پاکستان بارہا یہ کہ چکا ہے کہ افغانستان میں تمام دہشتگرد تنظیمیں پنپ رہی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی اپنی پریس بریفنگ میں بارہا کہہ ہے کہ امریکی ساکھ کے ہتھیار اور اسلحہ کھلے عام فروخت ہو رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان میں ایک وار اکانومی جنم لے چکی ہے جس کو افغان طالبان کی سرپرستی حاصل ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے افغانستان سے انخلاء کے وقت تقریباً 7 ارب ڈالر مالیت کا امریکی فوجی سامان چھوڑا، امریکی انخلاء کے بعد ہتھیاروں کی افغانستان میں موجودگی بھی بہت بڑادہشتگردی کا محرک ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہتھیار بیچے جا چکے ہیں یا دہشتگرد گروہوں کو اسمگل کر دیے گئے ہیں، اقوامِ متحدہ کا ماننا ہے کہ ان میں سے کچھ ہتھیار القاعدہ کے اتحادی گروہوں کے ہاتھوں میں بھی پہنچ چکے ہیں۔