data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاک فوج نے چمن کے حساس سرحدی علاقے اسپن بولدک میں افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے حملوں کو مؤثر انداز میں ناکام بنا دیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بدھ کی صبح افغان طالبان نے بلوچستان کے علاقے اسپن بولدک میں 4 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، جن کا پاکستانی فورسز نے نہایت پیشہ ورانہ مہارت اور فوری ردِعمل کے ساتھ جواب دیا۔

ترجمان پاک فوج کے بیان کے مطابق حملہ آوروں نے شہری آبادی کو ڈھال اور نشانہ بنانے کی کوشش کی اور یہاں تک کہ پاک افغان فرینڈشپ گیٹ کو بھی تباہ کر دیا، جس سے ان کے غیر ذمہ دارانہ اور دشمنانہ عزائم آشکار ہو گئے، تاہم پاکستانی جوانوں نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے حملہ مکمل طور پر پسپا کر دیا۔

ترجمان کے مطابق جوابی کارروائی میں 15 سے 20 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ ان کے متعدد ٹھکانے اور اسلحہ تباہ کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق فتنۃ الخوارج کے اسٹیجنگ پوائنٹس پر بھی اضافی عسکری سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم پاک فوج نے سرحدی علاقے میں مکمل کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اسی رات طالبان اور ان کے حامی گروہوں نے خیبر پختونخوا کے کورم سیکٹر میں بھی سرحد پار حملے کی کوشش کی، جسے بھی بھرپور انداز میں ناکام بنایا گیا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں 8 افغان پوسٹس، 6 ٹینک تباہ اور 25 تا 30 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاک فوج ملکی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ کسی بھی جارحیت کا جواب سخت، فیصلہ کن اور دشمن کے لیے سبق آموز ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: افغان طالبان کے مطابق پاک فوج

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک