سٹی42:  پاکستان کی سرحدوں پر چند روز کے دوران کے دوران  دوسری مرتبہ افغان طالبان نے بزدلانہ حملے کئے۔ پاکستان آرمی نے آج بھی افغان طالبان کے بزدلانہ حملوں کا انتہائی سختی سے جواب دیا۔ پاکستان آرمی کے جوانوں نے بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں طالبان اور ان کے اتحادی  فتنہ الخوارج کے 50  جہنمیوں کو ان کے اصل ٹھکانے میں پہنچا دیا۔
آج منگل کے روز دن کی روشنہ میں افغان طالبان نے 4  مقامات پر بزدلانہ حملے کیے اور پاک افغان دوستی گیٹ کو بھی اپنی طرف سے اڑا دیا۔

گندم پالیسی کا نیا ڈرافٹ چاروں صوبوں کو رائے کے لیےبھجوادیاگیا

پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاک فوج نے چمن کے علاقے سپن بولدک میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے حملوں کو شدید جوابی کارروائی کر کے ناکام بنایا۔ پاکستان آڑمی کی جوابی کارروائی میں متعدد افغان طالبان ہلاک ہوئے۔

افغان طالبان نے گزشتہ حملہ رات کے اندھیرے میں کیا تھا، یہ نیا حملہآج  15 اکتوبر، بدھ کی صبح  کیا۔

افغان طالبان نے بلوچستان کے سپن بولدک کے علاقہ میں بیک وقت 4  مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، جنہیں پاکستانی فورسز نے مؤثر طریقے سے پسپا کر دیا۔ یہ سازشی بارڈر پر آباد حملہ مقامی منقسم بستیوں کے ذریعے منظم کیا گیا تھا ۔ حملے کرنے والے طالبانوں نے شہری آبادی کی جان و مال کی پرواہ کیے بغیر  اندھا دھند یہ حملے کئے۔ 

لاہور بورڈ کا امتحانی پرچوں کی ری چیکنگ کے طریقہ کار میں تبدیلی لانے کا فیصلہ

افغان فورسز نے چمن میں سول آبادی پر بلااشتعال فائرنگ کی جس کا ،  پاکستان کو  مؤثر جواب دینا پڑا۔

 پاک فوج  کے ترجمان نے اسلام آباد میں  کہا کہ افغان طالبان نے  پاک-افغان فرینڈشپ گیٹ  کی افغان سمت والی سائیڈ کو بھی تباہ کیا جو سرحدی تجارت اور قبائلی آسانیوں کے حوالے سے ان کے رویّے کی وضاحت کرتا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی جوابی کارروائی میں 15 سے 20 افغان طالبان ہلاک ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ 

بھارت سےآنیوالی آلودہ ہواسےلاہورمیں اےکیوآئی250ہوگیا:الرٹ جاری

اس علاقہ مین انتہائی کشیدہ صورتحال اب بھی برقرار ہے اور فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے  جتھوں کی سٹریٹیجنگ پوائنٹس پر اضافی تعیناتیوں کی رپورٹس موصول ہو رہی ہیں۔

 عسکری ذرائع نے بتایا کہ سپین بولدک میں یہ حملہ کوئی الگ واقعہ نہیں تھا— 14/15 اکتوبر کی رات کو افغان طالبان اور فتنہ الخوارج نے خیبر پختونخوا کے کرم سیکٹر میں بھی پاکستانی بارڈرز پر حملوں کی کوشش کی،  اس علاقہ میں موجود پاک فوج کے جوانوں نے اس حملے کو بھی مؤثر انداز میں دندان شکن جواب دے کر  پسپا کر دیا۔

سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی انتقال کرگئے

پاکستان کی جوابی کارروائی میں افغان فوج کے مراکز کو بھاری نقصان پہنچا؛  8 پوسٹیں تباہ ہو گئیں اور افغان طالبان کے  6 ٹینک تباہ ہوئے۔  اندازے کے مطابق 25 تا 30 افغان طالبان اور  خارجی فتنہ گر جہنم واصل ہوئے۔

جارح دشمن کےگھناونے پروپیگنڈا  الزام پر پاکستان آرمی کی وضاحت

 اسلام ٓٓباد میں پاک مسلح افواج کے ترجمان کی جانب سے افغان طالبان کے اس تاثر کو مسترد کیا گیا کہ حملہ پاکستان کی طرف سے شروع کیا گیا —اسے "گھناونا اور واضح جھوٹ" قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ طالبان انتظامیہ کے پروپیگنڈے کو عام حقائق کی جانچ سے آسانی سے بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد میں ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں، میٹرو بس سروس بھی مکمل بحال

آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک افواج ملکی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کے دفاع کے لیے پختہ عزم رکھتی ہیں، کسی بھی جارحانہ اقدام کا بھرپور اور جواب دیا جائے گا۔

 
وزیراعظم کا اشتعال انگیزی پر اظہار تشویش

وزیراعظم شہباز شریف نے پاک افغان سرحد پر اشتعال انگیزی پر اظہار تشویش کیا اور کرم سیکٹر میں افغان طالبان کے حملے کو ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ 

وزیراعظم  نے کہا کہ افغان طالبان کو ان کی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاک فوج نے بھرپور جواب دیا،   ملکی سالمیت کا ہر صورت دفاع کیا جائے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین کا پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات کے لیے استعمال ہونا انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاک فوج نے سپن بولدک چمن میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے حملوں کو ناکام بنا دیا۔

 سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جانب سے 3 مقامات پر علی الصبح حملہ کیا گیا، پاک فوج کی جوابی کارروائی نے ان افغان طالبان کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔

 افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد دیہات اور معصوم لوگوں کو بطور ڈھال استعمال کر رہے ہیں، موصول اطلاعات کے مطابق 15 سے 20 افغان طالبان کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

 سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے پاک افغان دوستی گیٹ کو اپنی طرف سے اڑا دیا، گیٹ کو تباہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ افغان طالبان تجارت اور مقامی آمددورفت کے حامی نہیں ہیں۔

 پاک فوج نے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے کل رات کرم سیکٹر پر حملے کی کوشش بھی ناکام بنائی تھی، کرم سیکٹر پر جوابی حملے میں افغان طالبان کی 8 پوسٹیں اور 6 ٹینک بمعہ عملہ تباہ کی گئیں۔

 پاک فوج نے کرم سیکٹر میں متعدد دہشت گردوں کو ہلاک اور امریکی ساخت اسلحہ قبضے میں لیا، پاک فوج کی جانب سے منہ توڑ جواب کے بعد کرم سیکٹر میں اس وقت خاموشی ہے، اسپن بولدک میں مزید افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے اکٹھے ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے کی جوابی کارروائی میں افغان طالبان افغان طالبان نے کہ افغان طالبان افغان طالبان کے کرم سیکٹر میں کہا کہ افغان پاکستان کی پاک فوج نے پاکستان ا پاک افغان نے کہا کہ کے مطابق کیا گیا کر دیا

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے

جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔

تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔

اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔

جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔

جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار