اقلیتوں کےحقوق کےلیے ابھی مزید کام کرنا باقی ہے: اعظم نذیر تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ —فائل فوٹو
وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اقلیتوں کےحقوق کے لیے ابھی مزید کام کرنا باقی ہے۔
وفاقی وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کا سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئینِ پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ عدالتوں کو جبری شادیاں رکوانے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔
وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ہم زیرِ التواء مقدمات کے چنگل میں ہیں، 1 کروڑ 40 لاکھ مقدمات زیرِ التواء ہیں، جو خطرناک صورتِ حال ہے۔
انہوں نے کہا کہ مساوات اور انصاف کی فراہمی کسی بھی معاشرے میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے اور آئین کی شق 25 مساوات کی ضمانت دیتی ہے۔
وفاقی وزیرِ قانون و انصاف نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ آئین کا حصہ ہے، حقوق کا تحفظ مختلف جگہ آئین میں واضح ہے، اس حوالے سے مختلف بینچز بنائے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے تمام اقلیتوں کے حقوق کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں, یہ سوسائٹی اور اداروں کی اہم ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں پارلیمنٹ بھی مختلف کمیونٹیز کے حقوق کے لیے سرگرم ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے امید کا اظہار کیا کہ پاکستان کی دنیا میں پہچان قانون سے ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ نے اقلیتوں کے وفاقی وزیر حقوق کے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے اپنی اور صوبائی مشیر خزانہ کی بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی سے بجٹ پر رہنمائی حاصل کرنا ضروری‘ اس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ علیمہ خان کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں مزید دیوار سے لگانے کی کوشش اور ملاقات کا حق نہ دیا گیا تو 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے میں حکومت عمران خان کی ہے، اسے ان کے سوا کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس نہ موثر داخلہ پالیسی ہے اور نہ ہی خارجہ پالیسی۔ آنے والا وفاقی بجٹ عوام پر ایک معاشی ایٹم بم ہوگا۔