پراسیکوٹراورایمان مزاری کےدرمیان سخت جملوں کا تبادلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف متنازع ٹوئٹ کیس کی سماعت ہوئی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیس پر سماعت کی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے، پراسیکوشن کیجانب سے وائس میچنگ کےلیے متفرق درخواست دائر کی گئی، عدالت نے پراسیکوشن کی متفرق درخواست پر نوٹس جاری کردیا۔
پراسیکوٹر عثمان رانا اور ایمان مزاری کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، پراسکیوٹر عثمان رانا نے کہا کہ عدالت کیس کل سماعت کےلیے رکھ لے اور متفرق درخواست پر فیصلہ کرے۔
ایمان مزاری کے وکیل قیصر امام سپریم کورٹ بار الیکشن کی وجہ سے عدالت میں پیش نہ ہوئے، عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کیخلاف کیس کی سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔