دشمن کی ہرپراکسی خاک میں ملادیں گے،فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
دوبارہ جارحیت کی کوشش پر دشمن کی توقعات سے کہیں زیادہ سخت جواب ملے گا،پاکستان خطے کو استحکام دینے والی طاقت، معمولی شرانگیزی کا بھی جواب دے گا،معرکہ حق میں دفاعی صلاحیت کا لوہا منوایا
قوم کو یقین دلاتا ہوں اس مقدس سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں ہونے دیں گے، بھارت کی جغرافیائی وسعت کا من گھڑت حفاظتی تصور ختم کر دیں گے ،پاسنگ آوٹ پریڈ سے خطاب
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان نے معرکہ حق میں اپنی عسکری اور دفاعی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے، بھارتی فوجی قیادت کو خبردار کرتا ہوں نیوکلیٔر انوائرمنٹ میں دونوں ممالک میں جنگ کیلئے گنجائش نہیں،ہم بھارت کی اشتعال انگیز بیان بازی سے ہرگز مرعوب نہیں ہونگے اورکسی بھی اشتعال انگیزی کا فیصلہ کن اور دشمن کی توقعات سے کہیں زیادہ جواب دیں گے۔آرمی چیف نے کہا کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ریاستی سرپرستی میں جاری دہشت گردی، جبر اور مظالم کا بھی خاتمہ ہونا چاہئے، کشمیری عوام کب تک ظلم و جبر کا شکار رہیں گے اور حق خود ارادیت سے محروم رہیں گے۔ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق اس بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ کے حل تک کشمیریوں کی جائز جدوجہد آزادی کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ عاصم منیر نے پاکستان ملٹری ایکڈمی کاکول کی پاسنگ آوٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص کے دوران قوم اپنی فوج کے ساتھ فولاد کی طرح کھڑی تھی۔فیلڈ مارشل کا کہنا تھا بھارت کی جانب سے پاکستان پر بے نیاد الزمات لگائے گئے، بھارتی جارحیت کے خلاف قوم پہلے سے زیادہ متحد اور یک زبان ہوئی اور قوم کی حمایت سے سرحدوں کا کامیابی سے دفاع کیا، آپریشن بنیان مرصوص کے دوران عددی طور پر بڑے دشمن کیخلاف اپنی واضح فتح کی بدولت وقار اور عالمی برادری کی داد حاصل کی۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ازلی دشمن کیخلاف انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کارروائیاں کرتے ہوئے رافیل طیاروں کو مار گرایا گیا، دشمن کی متعدد بیسز بشمول ایس400 سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان نے ملٹی ڈومین وارفیٔر کی صلاحیتوں کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا، اللہ کے فضل اور قومی عزم کے ساتھ ہم نے من حیث القوم متحد ہو کر فولادی دیوار کی مانند دشمن کا مقابلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم شہدااور ان کے اہلِ خانہ کے بے حد شکر گزار اور مقروض ہیں، جن کی قربانیوں کی بدولت آج ہم آزادی کی زندگی گزار رہے ہیں۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہاکہ یاد رکھیں، ہمارے دشمن اپنے مذموم مقاصد کے لیے ہمارے عوام اور مسلح افواج کے درمیان دراڑ ڈالنے پر تلے ہوئے ہیں، پاکستان کا دفاعی نظریہ کریڈیبل ڈیٹرنس اور دائمی تیاری پر مبنی ہے، جس میں تمام صلاحیتوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔جنگ میں ہمارے ہتھیار دور تک پہنچ کر زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہوئے بھارت کی جغرافیائی وسعت کا من گھڑت حفاظتی تصور ختم کر دیں گے،دشمن کو پہنچائے جانے والے فوجی و اقتصادی نقصانات بھارت کی توقعات سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ میں بھارتی فوجی قیادت کو مشورہ دیتا ہوں اور سختی سے خبردار کرتا ہوں کہ نیوکلیٔر انوائرمنٹ میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے، پاکستان کے ساتھ بنیادیمسائل کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر حل کریں۔فیلڈ مارشل نے کہاکہ ہم آپ کی بیان بازی سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوں گے اور کسی بھی قسم کی چھوٹی سی اشتعال انگیزی کا بھی فیصلہ کن جواب دیں گے، آنے والی کشیدگی کی ذمہ داری، جو کہ بالآخر پورے خطے اور اس سے باہر کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہے، پوری طرح سے بھارت پر عائد ہو گی۔انہوںنے کہا کہ افغان طالبان کو پاکستان میں گھناونے حملے کرنے والی پراکسیز کو لگام ڈالنی چاہئے، ہر پراکسی کو خاک میں ملا دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دنیا نے بالآخر فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت، نسل کشی اور جبری بے گھر ہونے کا نوٹس لیا، اس جنگ کی وجہ سے خواتین، بچوں اور بوڑھوں سمیت ہزاروں بے گناہ فلسطینی شہری شہید ہو چکے ہیں، سفارتی میدان میں پاکستان کی مسلسل کوششوں نے غزہ میں امن کے حالیہ اقدام کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، ہمیں امید ہے کہ اس سے خطے میں پائیدار امن اور استحکام آئے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان توقع کرتا ہے کہ جنگ بندی جاری رہے گی جس کے بعد غزہ کی انسانی بنیادوں پر امداد اور تعمیر نو کا عمل جاری رہے گا، توقع ہے کہ فلسطین کے لوگ اپنے وطن میں امن سے رہ سکیں گے۔آرمی چیف نے کہا کہ تنازع کے منصفانہ حل کے لیے پاکستان دو ریاستی حل کی ناگزیریت اور 1967 کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں پر القدس الشریف کے دارالحکومت کی بنیاد پر فلسطین کی ایک آزاد، خود مختار اور قابل عمل ریاست کی ضرورت پر اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ سفارتی، اقتصادی اور عسکری کامیابیاں اور صلاحیتیں پاکستان کو انشااللہ ترقی کی بلند منزلوں تک لے جائیں گی ۔انہوں نے کہا کہ ہم وردی میں ملبوس لوگ ہمیشہ پاکستان کے عوام اور ریاست کی ترقی اور خوشحالی اور اس عظیم ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور تیار رہیں گے۔فیلڈ مارشل نے قرآن مجید کی سورہ الصف کی آیت نمبر 4 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بے شک اللہ تو ان کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے۔انہوں نے جنوری 1948 کے قائد کے تاریخی ارشادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب پاکستانی اور ریاست کے شہری ہیں، ہمیں ریاست کے لیے خدمت، قربانی اور جان دینی چاہیے، تاکہ ہم اسے دنیا کی سب سے شاندار اور خودمختار ریاست بنا سکیں۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کا پرچم انشااللہ بلند رہے گا کیونکہ اس کے محافظ یعنی پاکستانی قوم کبھی ناکام نہیں ہوتی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل کہ پاکستان بھارت کی دشمن کی دیں گے کا بھی کے لیے
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش