طالبان حکومت سے 13 لوگ عراق کے ذریعہ بھارت سے متواتر کیش وصو ل کر رہے ہیں، حنیف عباسی کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیرریلوےحنیف عباسی نے سماء نیوز کے پروگرام ’ میرے سوال‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا اسٹینڈ وہی ہے جو پہلے تھا، ہمارا اسٹینڈ ہے کہ جو دہشتگرد چھپے ہوئے ہیں ان کو ہمارے حوالے کریں یا پھر ان سے ہتھیار لے کر معافی تلافی کروائیں ، اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسری چوائس نہیں ہے۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ اگر ہم آپس میں کلیئر نہ ہوتے تو بھارت سے جنگ نہ جیت پاتے، فیلڈ مارشل نے اوور سیز پاکستانیوں کے کنونشن میں تقریر کی تھی ، اس پوری تقریر کو انہوں نے بھارت کے خلاف جنگ میں عملی جامہ پہنایا، اس جنگ کے بعد خارجہ پالیسی اچھی ہوئی ،اس سے پہلے نہیں دیکھی، ہم اوور کانفیڈنس نہیں ہیں ،پریشانی کی ضرورت نہیں ہے۔
ایک اور بڑی کامیابی ، پکتیکامیں گل بہادرگروپ کیخلاف کارروائی، خوارج کمانڈر سمیت 70سے زائددہشتگرد ہلاک ، سیکیورٹی حکام
ان کا کہناتھا کہ جب سےہم نے پاکستان کو سنبھالا تو ملک وینٹی لیٹر پر تھا، لوگ کہتے تھے کہ پاکستان ڈیفالٹ ہو گا مگر نہیں ہوا، سعودی عرب سے جو معاہدہ ہوا ہے وہ چھوٹی بات نہیں ہے، حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داری ہمارے حصے میں آئی ہے، جو سعودیہ کے پاس ہے وہ ہمارا ہے جو ہمارے پاس ہے وہ سعودیہ کا ہے، دنیامیں امن اس کو ملتا ہے جو طاقت کا مظاہرہ کرے، کمزور کو کوئی امن نہیں ملتا، ہمارے پاس پیسے نہیں تھے مگر صلاحیت تھی،بہترین فوج اور ایئرفورس ہے، ایرانی پارلیمنٹ میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگے، امریکا پاکستان کو گھاس نہیں ڈالتا تھاآج 57بار ٹرمپ نے کہا 7 جہاز گرائے گئے۔
پاکستان پیپلزپارٹی نے حکومت کو وعدوں پر عمل درآمد کے لیے ایک ماہ کا وقت دیدیا
حنیف عباسی نے کہا کہ ٹرمپ آج وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل کا بار بارحوالہ دیتے ہیں، جس طرح شہبازشریف نے پاکستان کی نمائندگی کی قابل رشک ہے، ایران پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے حوالے سے پاکستان نے پابندی لگا دی ہے، اس حوالے سے افغانیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے، شہدا کے لاشوں کی بےحرمتی کریں تو تجارت کا سوال پیدا نہیں ہوتا، مودی نے کئی بار دہرایا تھا کہ کوئی گڈ اور بیڈ طالبان نہیں، بھارت نے ایک شخص کو اپنے پاس بلا کر پیسے دیئے ہوں گے، 5ایمبولینس دی ہیں، مکمل معلومات ہیں بھارت نے کیش افغان وزیر خارجہ کو دیا ہے، طالبان حکومت سے 13 لوگ عراق کے ذریعہ بھارت سے متواتر کیش وصو ل کر رہے ہیں، 13لوگوں کو بھارت بریف کیس بھر کر پیسے دیتا ہے،ان کی باریاں ہوتی ہیں، یہ سلسلہ ایک سے ڈیڑھ سال سے چل رہا ہے۔
چین ماڈرن وار فیئر کی یونیورسٹی ہے، پاکستان وہاں پی ایچ ڈی کا سٹوڈنٹ ہے اور بھارت ابھی پہلی جماعت میں داخلہ لینے کی کوشش کررہا ہے، تجزیہ کار عثمان شامی
انہوں نے کہا کہ جب سےبی ایل اے کو سپورٹ کر رہے ہیں،ٹی ٹی پی کو کے پی میں بھجواتے ہیں ، تب سے یہ سلسلہ چل رہا ہے، ایران کو سمجھ آئی ،جنگ کے دوران افغانی اور بھارتی اسرائیل کے لیے جاسوسی کر رہا تھا، پھر انہوں نے افغان مہاجرین کو نکالنا شروع کر دیا، انہوں نے سمجھا تھا کہ پاکستان تجارت بند کرے گا تو ہم چاہ بہار سے کریں گے، آج ایران نے بھی پابندی لگا کر بارڈر بند کر دیا ہے، وہ افغانی جو دہشتگردی میں سہولت کار نہ ہو ہمارے لیے قابل احترام ہے، پاکستان کی سالمیت پر کوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہے۔
پروفیسر صاحبہ سے ملنے گیا انہوں نے ذکر کیا کہ دہلی، لدھیانہ اور بمبئی سے متعدد خواتین و حضرات کی خواہش ہے کہ انہیں بھی کسی تقریب میں پاکستان مدعو کیا جائے
ان کا کہناتھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ،امن تب آئے گاجب دشمن کو جواب دیں گے پھروہ مذاکرات کی میز پرآئے گا، دوحہ میں کہیں گے دہشتگردوں کی سپورٹ بند کریں ، ہم نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دی ہے، ہم نے اپنے شہدا کے جنازے اٹھائے اسکے بعد بھی ہم کمپرومائز کریں، فیلڈ مارشل نے کہا میرا ایک شہید ایک ہزار افغانیوں کے برابر ہے، افغانیوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، 40سے زائد وفد اس سال ان کو سمجھانے گئے ہیں، انہوں نے ہمارے بچوں پر شب خون مارا پھر ہم نے ان کی ٹھیک ٹھکائی کی ۔
زلزلے کی تباہی ہر طرف پھیلی تھی، کھلے آسمان تلے آباد خیمہ بستیاں انسانی المیے کی داستانوں سے بھری تھیں، غمگین چہرے مستقبل کی فکر سجائے تھے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ نے کہا تھا کہ
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔