مریم نواز کی ہدایت پر لاہور سمیت پورے پنجاب میں اسموگ سے بچاؤ کے اقدامات جاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر لاہور سمیت پورے پنجاب میں اسموگ سے بچاؤ کے اقدامات تیزی سے جاری ہیں جب کہ لاہور مشرق سے آنے والی ہواؤں کی زد میں ہے اور اتوار کو اوسط 'اے کیو آئی' 195 سے 210 رہے گا۔
ائیر کوالٹی انڈیکس میں اضافے کے پیش نظر لاہور میں اتوار کو سخت انتظامات کئے جا رہے ہیں، ماحولیاتی تحفظ کی فورس، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اینٹی اسموگ آپریشن میں مصروف ہے، اتوار کے دن ہوا کی رفتار ایک سے 9 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے کا امکان ہے۔
اسموگ مانیٹرنگ سینٹر کی ایڈوائزری کے مطابق عوام ماسک استعمال کریں، چھوٹے بچوں اور بوڑھوں کو باہر نہ لے کر جائیں، دوپہر کے وقت درجہ حرارت میں اضافے اور ہلکی ہوا کے چلنے سے فضائی معیار میں معمولی بہتری آئے گی۔
دوپہر 12 سے شام 5 بجے کے درمیان 'اے کیو آئی' 150 ہو جائے گا، شام 6 سے رات 11 بجے کے دوران 'اے کیو آئی' 165 سے 200 کے درمیان رہے گا، آئیندہ چوبیس گھنٹے میں 'اے کیو آئی' 22 سے 32 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے ، مجموعی طور پر، شہر میں دن بھر دھند رہنے کا امکان ہے۔
اسموگ مانیٹرنگ سینٹر کی ایڈوائزری میں کہا گیا کہ اسموگ مانیٹرنگ سینٹر کی ایڈوائزری کے مطابق موٹر سائیکل اور گاڑی والے والے شہری اتوار کو گھر پر رہیں، شہری اہل خانہ سمیت غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ جائیں، احتیاط سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
تعمیراتی مقامات، ہاؤسنگ سوسائٹیز کو تعمیراتی گردو غبار ڈھانپنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے، واسا، ایل ڈی اے اور لوکل گورنمنٹ کل رات سے سڑکوں کے چھڑکاؤ میں متحرک ہیں، 'ای پی اے' کے تصدیق شدہ تعمیراتی مقامات کو بھی فجر کی نماز کے بعد سے چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔
عوام کو کوڑا کرکٹ، کسانوں کو فصل کی باقیات اور پرالی نہ جلانے کی اپیل کی گئی ہے، کوڑا کرکٹ اور فصل کی باقیات جلانے پر سخت قانونی کارروائی ہو گی، صرف شہری ہی فضائی معیار کو بہتر بناسکتے ہیں اور اب کو حصہ ڈالنا ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اے کیو آئی
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے