مشقوں میں شرکت کیلئے پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کا دستہ آذربائیجان پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
(احمدمنصور)پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر بلاک3 جنگی طیاروں پر مشتمل دستہ دو طرفہ فضائی مشق میں شرکت کےلیے آذربائیجان پہنچ گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فضائیہ کا دستہ فضائی مشق انڈس شیلڈالفا میں شرکت کیلئے آذربائیجان پہنچا ہے، پاک فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان سے آذربائیجان تک بلاتعطل پرواز مکمل کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پرواز کے دوران فضا میں ایئر ٹو ایئرری فیولنگ کا کامیاب مظاہرہ کیا گیا، پاک فضائیہ کے آئی ایل78ایریل ٹینکر نے فضا میں ری فیولنگ کاعمل انتہائی مہارت سے انجام دیا۔
مشق ’’انڈس شیلڈ الفا‘‘ کا مقصد دونوں برادر فضائی افواج کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ، حکمتِ عملی میں ہم آہنگی اور اشتراکی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے، اس مشق میں جدید فضائی جنگی حربوں، مشترکہ منصوبہ بندی اور آپریشنل عمل کو موجودہ ٹیکنالوجی اور بدلتی فضائی قوت کے تناظر میں پرکھا جائے گا۔
دکی ؛ کوئلے کی کان میں مٹی کا تودہ گرنے سے دو کان کن جاں بحق
پاک فضائیہ کی اس مشق میں شمولیت علاقائی استحکام اور عالمی عسکری تعاون کے فروغ کے عزم کی عکاسی کرتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ پاکستانی فضائیہ کے اس عزم کا بھی اظہار ہے کہ وہ جدید جنگی تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بناتی رہے گی اور فضائی آپریشنز کے ہر شعبے میں اپنی روایتی برتری برقرار رکھے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاک فضائیہ کے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔