پاکستانی فیشن انڈسٹری کی سابقہ معروف ماڈل اور موجودہ اداکارہ زینب قیوم نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ایک اچھی بیوی بننے کی پوری کوشش کی لیکن شادی کے صرف 10 ماہ بعد ہی شوہر نے انہیں طلاق دے دی۔

ماضی میں دیے گئے ایک انٹرویو سے زینب کا مختصر ویڈیو کلپ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہے، جس میں انہوں نے اچانک شادی کے فیصلے اور پھر 10 ماہ میں طلاق کے حوالے سے لب کشائی کی۔

انہوں نے بتایا کہ طلاق کے بعد اداکاری کے میدان میں قدم رکھا تھا، شادی ختم ہونے کا افسوس تو ہے لیکن پچھتاوا نہیں ہے۔


زینب قیوم نے اس حوالے سے کھل کر بات کرتے ہوئے کہا، ’میں نے شادی کرنے کا فیصلہ اچانک لیا تھا، اس لیے نہیں کیونکہ مجھے محبت ہوگئی تھی بلکہ مجھے لگا کہ میرے ہاتھوں سے وقت نکل رہا ہے اس لیے مجھے جلد سے جلد شادی کرنی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ 2010 میں جب شادی ہوئی تو چیزیں بہت تیزی سے تبدیل ہونا شروع ہوگئیں، پہلے میں دبئی اور پھر لندن منتقل ہوگئی لیکن صرف 10 ماہ بعد شوہر کو احساس ہوا کہ ہم ایک ساتھ نہیں چل سکتے تو انہوں نے مجھے طلاق دے دی۔

اداکارہ کا کہنا ہے کہ مجھے اس بات کی تسلی ہے کہ طلاق کا فیصلہ سابقہ شوہر کی جانب سے آیا، اگر میں یہ فیصلہ لیتی تو مجھے زندگی بھر پچھتاوا رہتا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے کامیاب کیریئر کے باوجود شادی کے رشتے میں ناکامی پر افسوس ضرور ہے لیکن پچھتاوا نہیں ہے کیونکہ میں نے اچھی بیوی بننے کے لیے سب کچھ کیا، صرف اپنا گردہ عطیہ کرنا باقی رہ گیا تھا اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں جو کچھ تھا وہ سب میں نے کیا لیکن سابقہ شوہر کو لگا کہ ہم ایک ساتھ نہیں چل سکتے، ہمارے درمیان مطابقت نہیں ہے اس لیے انہوں نے 2011 میں طلاق دینے کا فیصلہ لیا، جس پر میں ان کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے سب خود ہی ختم کر دیا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ طلاق کے بعد میں دلبرداشتہ ہوگئی تھیں اور سوچتی تھیں کہ ایک کامیاب کیریئر کے باوجود میں شادی جیسے رشتے کو نبھانے میں کیسے ناکام ہو گئیں۔ چونکہ یہ فیصلہ سابقہ شوہر نے لیا تھا اس لیے مجھے اس مایوسی سے نکلنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سابقہ شوہر انہوں نے شادی کے کہ مجھے اس لیے

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا