ٹماٹر میں مرغی ڈالیں یا مرغی میں ٹماٹر؛ہوش ربا قیمتوں پر سوشل میڈیا صارفین برہم
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری)کراچی میں مرغی کے گوشت کی قیمت کم اور ٹماٹر کی زیادہ ہوگئی،زندہ مرغی 320 روپے ،مرغی کا گوشت 500 روپے اور ٹماٹر 550 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، عوام حیران ہیں کہ مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی۔ ٹماٹر کی قیمت میں ہوش ربا اضافے کے حوالے سے سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے ۔
سوشل میڈیاصارفین حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ٹماٹر اور دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں استحکام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔
سوشل میڈیا صارف اکرم بلوچ نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے کہ زندہ مرغی 320 روپے کلو اور ٹماٹر 550 روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں، ہم عوام حیران ہیں کہ مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی دالیں۔
قاضی حسن جدون نے لکھا کہ عوام مہنگائی اور بے بسی کی دہری اذیت میں مبتلا ہیں، مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔
نصیب اللہ خان نے لکھا ہے کہ ٹماٹر کی قیمتیں 500روپے کلو سے بڑھ گئی ہیں آٹے اور گندم کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ کمشنر کراچی اور پرائس کنٹرول لسٹ جاری کرنے والے اور پرائس مانیٹرنگ کمیٹی جو روزمرہ ضروری اشیاخوردہ نوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرتی ہے مگر یہ لوگ اپنے دفتر کے ٹھنڈے کمروں میں خوب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔
عوام کے مسائل سے اتنی بے خبر حکومت شاید ہی کبھی ہم نے دیکھی ہے۔جبکہ دوسری جانب ٹماٹر کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کی وجہ سے کئی صارفین نے ٹماٹر کی جگہ دہی استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ ایک مہینہ ٹماٹر نہ خریدیں۔ کچھ چیزیں دہی سے بہت اچھی بن جاتی ہیں، اسی طرح ٹماٹو پیسٹ 530 روپے کا 800 گرام ملتا ہے، سالن میں ایک چمچ ڈال لیجیے.
کراچی کے عام بازاروں میں ٹماٹر کی فی کلو قیمت 500 سے 550 روپے تک پہنچ چکی ہے جس سے ٹماٹر عام شہریوں کی پہنچ سے دور ہو گئے ہیں۔قیمتوں میں اس اچانک اضافے نے عوام کو شدید متاثر کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے پہلے ہی زندگی دشوار بنا رکھی ہے، اور اب ٹماٹر جیسے بنیادی استعمال کی سبزی کا اس قدر مہنگا ہو جانا عام آدمی کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا میں ٹماٹر ٹماٹر کی کی قیمت رہے ہیں
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا ہونے سے عوام اور پمپ مالکان پریشان، 90 فیصد لوگوں کا ٹنکی فُل کروانا خواب بن گیا
پیٹرول کی یومیہ قیمتیں بڑھنے سے شہری پریشان اور مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
حکومت کی جانب سے قیمتوں کے یومیہ تعین کا نظام نافذ ہونے کے بعد سے آج 24 مئی تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا گیا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے صرف پٹرول مہنگا نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ عام استعمال کی اشیاء بھی اب روزانہ کی بنیاد پر مہنگی ہونے لگی ہے مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام زندہ رہنے کے لیے صرف سانسیںلے رہے ہیں کیونکہ روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
ایکسپریس نیوز نے صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں کے پٹرول پمپوں پر لوگوں سے بات چیت کی اور ان سے پوچھا کہ آخری بار گاڑی یا موٹرسائیکل کی ٹنکی کب مکمل بھروائی تھی۔
اس دوران یہ دلچسپ انکشاف ہوا کہ 90 فیصد شہریوں کو یہ یاد ہی نہیں تھاکہ انہوں نے آخری بار کب اپنی گاڑی کی ٹنکی فُل کروائی ہے۔
گاڑی میں سوار شہری اکبر امجد کاشف عقیل نے بتایا کہ میں نے دو ہزار کا تو کبھی تین ہزار اگر بہت حد ہوئی تو پانچ ہزار کا پیٹرول ڈلوایا تھا جبکہ موٹر سائیکل سوار تو ایک لیٹر بھی پورا نہیں ڈلواتے کوئی 200 روپے کا تو کوئی 300 روپے کا پٹرول بھرواتا ہے۔
شہر کے مختلف پمپس کے دورے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کچھ موٹرسائیکل سواروں 2000 یا تین ہزار کا اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوایا جب ان سے پوچھا تو انہوں نے لمبا سانس لے کر اس خواہش کا اظہار کیا کہ جب قیمتیں اس قابل ہو جائیں گی تو شاید ہم اپنی زندگیوں میں مو ٹر سائیکل کی ٹینکی بھی فل کرا سکیں، مجبوری میں اتنی رقم خرچ کی ہے اب تو جتنی ضرورت ہوتی ہے ڈلوا کر گزارہ کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیںپیٹرولیم مصنوعات موبائل فون، انٹرنیٹ سروسز کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ
6 روز میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 63 روپے سے زائد کا اضافہ ہوا
کار سوار امتیاز کے مطابق اس نے چار مہینے پہلے گاڑی کی ٹنکی فل کرائی تھی اور اج وہ کبھی 2ہزار کا تو کبھی ڈھائی ہزار کا پیٹرول ضرورت کے تحت ڈلوا رہے ہیں کیونکہ افس جانا ہے یا بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم مصںوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کی وجہ سے بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنے والے ٹرانسپورٹرز نے بھی کرائے میں اس قدر اضافہ کر دیا کہ وہ پہنچ سے باہر ہو گیا اب بچوں کو لانے لے جانے کے لیے ہی صرف گاڑی کا استعمال کرتا ہوں یا پھر کوئی ہنگامی حالت ہو تو نکل جاتا ہوں۔
پاکستان پیٹرولیم اونر ایسوسی ایشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اب روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے رد و بدل کی وجہ سے پیٹرول کی کھپت میں 35 سے 40 فیصد تک کمی ائی ہے اور اب تو پمپ مالکان کے خرچے بھی پورے نہیں ہو رہے۔
انہوں نے کہا کہ تنخواہیں دینا بھی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے بجلی کے بل پہلے جو پیٹرول پمپ کے دو ڈھائی لاکھ اتے تھے اب وہ چار پانچ لاکھ آنے لگے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح دیگر اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے ایک طرف عوام پریشان ہے تو دوسری طرف پٹرول فروخت کرنے والے بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں، کسی زمانے میں مشہور تھا کہ اس کے تو پٹرول پمپس ہیں ان کی کس چیز کی فکر ہے جتنی مرضی گاڑیاں رکھے چلائے اس نے کون سے اپنی جیب سے گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانا ہے۔
مالک نے کہا کہ اب حالات یہ ہو چکے ہیں کہ اکثر گھروں میں تین تین چار چار گاڑیاں تو نظر اتی ہیں مگر چلتی صرف ایک عادی ہی ہے اگر حالات یہی رہے تو عنقریب مزید سینکڑوں لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کو ترجیح دیں گے جب سے پیٹرول مہنگا ہوا ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں رش زیادہ ہو گیا ہے لیکن بہت سارے لوگوں کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کے علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی اگر چلتی بھی ہے تو کئی میل دور جا کر پک اینڈ ڈراپ ملتا ہے اس لیے لوگ مجبور ہیں کہ وہ اپنی موٹر سائیکل پہ یا گاڑی پہ سفر کریں۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول مہنگا ہونے سے اب ٹنکی فل کرانا صرف ایک خواہش ہی رہ گی ہے اور جو حالات ہو چکیں ہیں ان میں ٹینکی فل کرانا ناممکن۔ ہو چکا ہے۔