data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251021-03-6
سید اقبال ہاشمی
ہمارے وزیر اعظم نے مکھن ڈپلومیسی سے دنیا میں جتنی شہرت کمائی ہے اتنی تو کسی نے بوٹ پالش سے بھی نہیں کمائی ہوگی۔ ڈونلڈ ٹرمپ تو ان کے ایسے مداح ہوگئے ہیں کہ ان کا ذکر کیے بغیر اب ان کی تقریر ہی مکمل نہیں ہوتی ہے۔ شہباز شریف کی تعریف باللسان اور الفت بالقلب سے متاثر ہو کر پہلے تو ٹرمپ نے دنیا کو یہ بتایا کہ پاکستان نے ہندوستان کے چار رافیل طیارے گرا دیے ہیں۔ پھر جیسے جیسے یہاں سے مکھن کی مقدار بڑھتی گئی ویسے ویسے وہاں سے جہازوں کی تعداد بھی بڑھتی چلی گئی اور آج کل ٹرمپ سات جہاز گرانے کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو حالیہ دنوں میں دو قومی نظریہ کا دفاع ٹرمپ سے بہتر کسی نے نہیں کیا ہے۔ اگر شہباز شریف اسی طرح تعریفوں کے جام کے جام لنڈھاتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں امریکا کے صدر کو حاجی ڈونلڈ ٹرمپ مدظلہ کے نام سے یاد کیا جائے گا۔ ٹرمپ پر تو ان تعریفوں نے اتنا سحر پیدا کر دیا ہے کہ بار بار وہ یہ شہد میں گھلے ہوئے الفاظ خود بھی سنتے ہیں اور اصرار کرکے دنیا کو بھی سنواتے ہیں۔ شرم کر شیخ میں تو تعریفوں کا پل اتنا لمبا ہو گیا کہ ٹرمپ کو کہنا پڑگیا کہ بس بہت زیادہ ہوگیا ہے۔ اب گھر چلنا چاہیے۔
ویسے تو مکھن لگانے کی تاریخ بہت پرانی ہے اور زیادہ تر یہ حکمت عملی کامیابی حاصل کرنے کے لیے کامیاب رہی ہے لیکن ہمارے وزیر اعظم نے اسے ایسی جہت دی ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے سربراہان مملکت انگشت بدنداں ہیں کہ افسوس کہ شہباز کو پالش کی نہ سوجھی۔ حالانکہ تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ گاڑی کے ٹرنک سے برآمد ہونے کے بعد پالش سے ہی آغاز کیا تھا کہ ’جئے گیٹ نمبر چار نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں‘۔ لگتا تو ایسا ہی ہے کہ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔ اگر یہ اسی طرح اس فن میں ید طولیٰ حاصل کریں گے تو یہ وزیر اعظم سے بھی آگے ترقی کریں گے۔ دنیا کی جامعات انہیں مکھن ڈپلومیسی اور فیملی پلوٹو کریسی پر لیکچر کے لیے بلائیں گی۔ انگریزی ادب ویسے بھی مدح سرائی میں غریب ہے۔ اسی لیے ہمارے وزیر اعظم کی تقریر انگریزی ادب میں بھی ایک قابل قدر اضافہ ہے۔ فیضی اور ابو الفضل قبروں میں مدح کی اس روانی پر بے چینی سے کروٹیں بدل رہے ہیں کہ یہ ردیف، قافیے اور قیافہ شناسی ہم جانتے تو نہ جانے دربار اکبری میں کس مقام و مرتبہ کو پہنچتے۔ ہمارے وزیراعظم کی دیدہ دلیری اب اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کسی بھی ملاقات میں انہوں نے ٹرمپ کا ہاتھ ایک مرتبہ پکڑ لیا تو پھر اسے چھوڑا نہیں۔ کیمرے کی آنکھ نے تو شہباز کو امریکی صدر کو ایک مرتبہ آنکھ مارتے ہوئے بھی پکڑ لیا۔ ایسی محبت تو صدر ایوب اور ملکہ برطانیہ کے درمیان بھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ شاہ محمود قریشی نے جب ہیلری کلنٹن کو گلے لگایا تو اس کا بھی دنیا میں اتنا افسانہ نہیں بنا۔
دنیا میں تو سو منہ اور سو باتیں ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ ہمارے وزیراعظم کی کارکردگی پر عش عش کر رہے ہیں تو کچھ تھو تھو بھی کر رہے ہیں۔ اتنی محنت کے باوجود بنگلا دیش کے مقابلے میں ہمیں ٹیرف میں تو صرف انیس بیس کا ہی فائدہ ہوا ہے لیکن یہ فائدہ البتہ ہوا ہے کہ امریکا کے صدر کو پاکستان کے وزیراعظم کا نام منہ زبانی یاد ہو گیا ہے بلکہ جہاں بھی جاتے ہیں اصرار کرکے انہیں بھی بلواتے ہیں کہ تارے بن مورا جیا ناہی لاگے۔ یہ اس لیے بھی لازم و ملزوم ہوگیا ہے کہ اب ٹرمپ اپنی تقریر سے قبل عزت مآب وزیر اعظم کو دعوت دیتے ہیں کہ ممدوح کی مدح سے تقریب کا آغاز کریں۔ پاکستانی عوام اور معیشت کا تو پہلے ہی تیل نکل چکا ہے لیکن ٹرمپ نے محبت سے مخمور ہو کر پاکستان کا تیل اور معدنیات دونوں نکالنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ فی الحال کے لیے تو الٹے بانس بریلی پاکستان امریکا سے تیل درآمد کر رہا ہے اور اس کامیابی پر ہمارے حکمران بغلیں بجاتے نہیں تھک رہے ہیں۔ روسی صدر نے جذباتی ہو کر کہہ دیا ہے کہ ہم تیل نکالنے والے بڑے ممالک میں شامل ہیں تو ٹرمپ نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ تیل نکالنے میں ہمارا بھی کوئی ثانی نہیں ہے۔ یقین نہ آئے تو عرب ممالک سے تصدیق کر لیں۔ امریکا کی جان لیوا دوستی ہم سہہ نہیں پائیں گے کیونکہ مرغی کو تکلے کا گھاؤ ہی بہت ہوتا ہے۔
کرکٹ ڈپلومیسی کے بعد تو ہم نے ہندوستان کو صرف دھمکی دی تھی لیکن۔ بٹر ڈپلومیسی کے نتیجے میں ہم نے وہ کر دیا جو پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ ہم بلوچستان اور کے پی کے میں تو الجھے ہوئے تھے ہی۔ ہم نے افغانستان کے خلاف ایک محاذ اور کھول دیا ہے۔ صدر ٹرمپ ہم سے بہت حال ایک قدم آگے رہتے ہیں۔ ہمارے سات جہازوں کے گرانے کا ذکر کرتے ہیں تو اپنا ذکر بھی فخریہ کرتے ہیں کہ میں نے آٹھ جنگیں رکوائی ہیں۔ نویں جنگ پاکستان اور افغانستان کی رکواؤں گا اور دسویں جنگ یوکرین اور روس کی۔ لگتا تو یہی ہے کہ جب تک ٹرمپ دسویں جنگ رکوائیں گے پاکستان بھی نو رافیل گرا چکا ہوگا۔ صدر ٹرمپ کو اس بات کا بہت زیادہ افسوس ہے کہ اوباما نے کچھ نہ کیا اور اسے امن کا نوبیل انعام مل گیا اور پاکستانی اور اسرائیلی وزراء اعظم کی نامزدگیوں کے باوجود انہیں نوبیل انعام نہیں ملا۔ یہ بات صدر ٹرمپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بعض اوقات کچھ نہ کرنے سے بہتوں کا بھلا ہوتا ہے اور قابل انعام ہوتا ہے۔ ہم تو یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ اسی لیے ہم طاقتور کے ہم رکاب رہنے کی ہر ممکنہ کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم زیادہ جذباتی ہوگئے تو ٹرمپ کو پاکستان آنے کی دعوت دے ڈالی جسے انہوں نے فی الفور قبول بھی کر لیا ہے۔ نوبیل انعام نہ صحیح نشان پاکستان تو ٹرمپ کو مل ہی جائے گا۔ ہماری خارجہ پالیسی تو کافی عرصے سے یہی چل رہی ہے کہ متھرا میں رہنا ہے تو رادھے رادھے کہنا ہے۔ بادشاہ کی اگاڑی اور گھوڑے کی پچھاڑی دونوں سے بچنا چاہیے اور اس وقت ہم دونوں سے بچنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ سیاسی قیافہ شناس تو یہی کہہ رہے ہیں کہ کوئی بڑی ذمے داری سر پر پڑنے والی ہے۔ خدا خیر کرے۔ ہم تو آ بیل مجھے مار کے ویسے بھی بہت ماہر ہیں۔ ملک کی رہبری کرنے والوں کو دیکھ کر اور ڈر لگتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کر رہے ہیں اعظم کی ٹرمپ کو تو ٹرمپ ہیں کہ میں تو اور اس سے بھی
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز