Jasarat News:
2026-06-03@03:35:57 GMT

بٹر ڈپلومیسی

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251021-03-6

 

سید اقبال ہاشمی

ہمارے وزیر اعظم نے مکھن ڈپلومیسی سے دنیا میں جتنی شہرت کمائی ہے اتنی تو کسی نے بوٹ پالش سے بھی نہیں کمائی ہوگی۔ ڈونلڈ ٹرمپ تو ان کے ایسے مداح ہوگئے ہیں کہ ان کا ذکر کیے بغیر اب ان کی تقریر ہی مکمل نہیں ہوتی ہے۔ شہباز شریف کی تعریف باللسان اور الفت بالقلب سے متاثر ہو کر پہلے تو ٹرمپ نے دنیا کو یہ بتایا کہ پاکستان نے ہندوستان کے چار رافیل طیارے گرا دیے ہیں۔ پھر جیسے جیسے یہاں سے مکھن کی مقدار بڑھتی گئی ویسے ویسے وہاں سے جہازوں کی تعداد بھی بڑھتی چلی گئی اور آج کل ٹرمپ سات جہاز گرانے کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو حالیہ دنوں میں دو قومی نظریہ کا دفاع ٹرمپ سے بہتر کسی نے نہیں کیا ہے۔ اگر شہباز شریف اسی طرح تعریفوں کے جام کے جام لنڈھاتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں امریکا کے صدر کو حاجی ڈونلڈ ٹرمپ مدظلہ کے نام سے یاد کیا جائے گا۔ ٹرمپ پر تو ان تعریفوں نے اتنا سحر پیدا کر دیا ہے کہ بار بار وہ یہ شہد میں گھلے ہوئے الفاظ خود بھی سنتے ہیں اور اصرار کرکے دنیا کو بھی سنواتے ہیں۔ شرم کر شیخ میں تو تعریفوں کا پل اتنا لمبا ہو گیا کہ ٹرمپ کو کہنا پڑگیا کہ بس بہت زیادہ ہوگیا ہے۔ اب گھر چلنا چاہیے۔

ویسے تو مکھن لگانے کی تاریخ بہت پرانی ہے اور زیادہ تر یہ حکمت عملی کامیابی حاصل کرنے کے لیے کامیاب رہی ہے لیکن ہمارے وزیر اعظم نے اسے ایسی جہت دی ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے سربراہان مملکت انگشت بدنداں ہیں کہ افسوس کہ شہباز کو پالش کی نہ سوجھی۔ حالانکہ تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ گاڑی کے ٹرنک سے برآمد ہونے کے بعد پالش سے ہی آغاز کیا تھا کہ ’جئے گیٹ نمبر چار نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں‘۔ لگتا تو ایسا ہی ہے کہ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔ اگر یہ اسی طرح اس فن میں ید طولیٰ حاصل کریں گے تو یہ وزیر اعظم سے بھی آگے ترقی کریں گے۔ دنیا کی جامعات انہیں مکھن ڈپلومیسی اور فیملی پلوٹو کریسی پر لیکچر کے لیے بلائیں گی۔ انگریزی ادب ویسے بھی مدح سرائی میں غریب ہے۔ اسی لیے ہمارے وزیر اعظم کی تقریر انگریزی ادب میں بھی ایک قابل قدر اضافہ ہے۔ فیضی اور ابو الفضل قبروں میں مدح کی اس روانی پر بے چینی سے کروٹیں بدل رہے ہیں کہ یہ ردیف، قافیے اور قیافہ شناسی ہم جانتے تو نہ جانے دربار اکبری میں کس مقام و مرتبہ کو پہنچتے۔ ہمارے وزیراعظم کی دیدہ دلیری اب اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کسی بھی ملاقات میں انہوں نے ٹرمپ کا ہاتھ ایک مرتبہ پکڑ لیا تو پھر اسے چھوڑا نہیں۔ کیمرے کی آنکھ نے تو شہباز کو امریکی صدر کو ایک مرتبہ آنکھ مارتے ہوئے بھی پکڑ لیا۔ ایسی محبت تو صدر ایوب اور ملکہ برطانیہ کے درمیان بھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ شاہ محمود قریشی نے جب ہیلری کلنٹن کو گلے لگایا تو اس کا بھی دنیا میں اتنا افسانہ نہیں بنا۔

دنیا میں تو سو منہ اور سو باتیں ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ ہمارے وزیراعظم کی کارکردگی پر عش عش کر رہے ہیں تو کچھ تھو تھو بھی کر رہے ہیں۔ اتنی محنت کے باوجود بنگلا دیش کے مقابلے میں ہمیں ٹیرف میں تو صرف انیس بیس کا ہی فائدہ ہوا ہے لیکن یہ فائدہ البتہ ہوا ہے کہ امریکا کے صدر کو پاکستان کے وزیراعظم کا نام منہ زبانی یاد ہو گیا ہے بلکہ جہاں بھی جاتے ہیں اصرار کرکے انہیں بھی بلواتے ہیں کہ تارے بن مورا جیا ناہی لاگے۔ یہ اس لیے بھی لازم و ملزوم ہوگیا ہے کہ اب ٹرمپ اپنی تقریر سے قبل عزت مآب وزیر اعظم کو دعوت دیتے ہیں کہ ممدوح کی مدح سے تقریب کا آغاز کریں۔ پاکستانی عوام اور معیشت کا تو پہلے ہی تیل نکل چکا ہے لیکن ٹرمپ نے محبت سے مخمور ہو کر پاکستان کا تیل اور معدنیات دونوں نکالنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ فی الحال کے لیے تو الٹے بانس بریلی پاکستان امریکا سے تیل درآمد کر رہا ہے اور اس کامیابی پر ہمارے حکمران بغلیں بجاتے نہیں تھک رہے ہیں۔ روسی صدر نے جذباتی ہو کر کہہ دیا ہے کہ ہم تیل نکالنے والے بڑے ممالک میں شامل ہیں تو ٹرمپ نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ تیل نکالنے میں ہمارا بھی کوئی ثانی نہیں ہے۔ یقین نہ آئے تو عرب ممالک سے تصدیق کر لیں۔ امریکا کی جان لیوا دوستی ہم سہہ نہیں پائیں گے کیونکہ مرغی کو تکلے کا گھاؤ ہی بہت ہوتا ہے۔

کرکٹ ڈپلومیسی کے بعد تو ہم نے ہندوستان کو صرف دھمکی دی تھی لیکن۔ بٹر ڈپلومیسی کے نتیجے میں ہم نے وہ کر دیا جو پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ ہم بلوچستان اور کے پی کے میں تو الجھے ہوئے تھے ہی۔ ہم نے افغانستان کے خلاف ایک محاذ اور کھول دیا ہے۔ صدر ٹرمپ ہم سے بہت حال ایک قدم آگے رہتے ہیں۔ ہمارے سات جہازوں کے گرانے کا ذکر کرتے ہیں تو اپنا ذکر بھی فخریہ کرتے ہیں کہ میں نے آٹھ جنگیں رکوائی ہیں۔ نویں جنگ پاکستان اور افغانستان کی رکواؤں گا اور دسویں جنگ یوکرین اور روس کی۔ لگتا تو یہی ہے کہ جب تک ٹرمپ دسویں جنگ رکوائیں گے پاکستان بھی نو رافیل گرا چکا ہوگا۔ صدر ٹرمپ کو اس بات کا بہت زیادہ افسوس ہے کہ اوباما نے کچھ نہ کیا اور اسے امن کا نوبیل انعام مل گیا اور پاکستانی اور اسرائیلی وزراء اعظم کی نامزدگیوں کے باوجود انہیں نوبیل انعام نہیں ملا۔ یہ بات صدر ٹرمپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بعض اوقات کچھ نہ کرنے سے بہتوں کا بھلا ہوتا ہے اور قابل انعام ہوتا ہے۔ ہم تو یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ اسی لیے ہم طاقتور کے ہم رکاب رہنے کی ہر ممکنہ کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم زیادہ جذباتی ہوگئے تو ٹرمپ کو پاکستان آنے کی دعوت دے ڈالی جسے انہوں نے فی الفور قبول بھی کر لیا ہے۔ نوبیل انعام نہ صحیح نشان پاکستان تو ٹرمپ کو مل ہی جائے گا۔ ہماری خارجہ پالیسی تو کافی عرصے سے یہی چل رہی ہے کہ متھرا میں رہنا ہے تو رادھے رادھے کہنا ہے۔ بادشاہ کی اگاڑی اور گھوڑے کی پچھاڑی دونوں سے بچنا چاہیے اور اس وقت ہم دونوں سے بچنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ سیاسی قیافہ شناس تو یہی کہہ رہے ہیں کہ کوئی بڑی ذمے داری سر پر پڑنے والی ہے۔ خدا خیر کرے۔ ہم تو آ بیل مجھے مار کے ویسے بھی بہت ماہر ہیں۔ ملک کی رہبری کرنے والوں کو دیکھ کر اور ڈر لگتا ہے۔

 

سید اقبال ہاشمی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کر رہے ہیں اعظم کی ٹرمپ کو تو ٹرمپ ہیں کہ میں تو اور اس سے بھی

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ