پرینیتی چوپڑا پہلی بار ماں بن گئیں، ’اب ہمارے پاس سب کچھ ہے‘
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
بالی ووڈ اداکارہ پرینیتی چوپڑا اور راگھو چڈھا کے ہاں ننھے مہمان کی آمد ہوئی ہے۔ جوڑے نے اس خوشخبری کا اعلان اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک جذباتی پوسٹ کے ذریعے کیا۔
پرینیتی اور راگھو نے پوسٹ میں لکھا کہ ’بالآخر وہ آ گیا، ہمارا بیٹا! اور ہمیں اپنی پرانی زندگی بالکل یاد نہیں رہی۔‘ دونوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے بازو بھرے ہوئے ہیں اور ہمارے دل اس سے بھی زیادہ بھرے ہوئے ہیں۔ پہلے صرف ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے تھے، اور اب ہمارے پاس سب کچھ ہے‘۔
View this post on Instagram
A post shared by Raghav Chadha (@raghavchadha88)
اداکارہ کی اس خوشی کی خبر پر مداحوں اور فلمی دنیا کے ساتھی اداکاروں کی جانب سے مبارکباد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ پرینیتی چوپڑا اور راگھو چڈھا نے 13 مئی 2023 کو نئی دہلی میں اپنی منگنی کی تھی، جس کے بعد دونوں نے ادے پور کے تاریخی لیلا پیلس میں ایک شاندار مگر نجی تقریب میں شادی کی تھی۔ جوڑا اکثر اپنی محبت بھری تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتا رہتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ پرینیتی چوپڑا پرینیتی چوپڑا بچہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ پرینیتی چوپڑا پرینیتی چوپڑا
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔