کراچی میں نیپا چورنگی پر واقع نجی اسٹور کے باہر گٹر کا ڈھکن ٹوٹنے کی ویڈیو سامنے آگئی۔

لنک روڈ پر 17 نومبر کی رات 2 بج کر 5 منٹ پر گٹر کا ڈھکن ڈمپر کے گزرنے کے باعث ٹوٹا تھا، جس کے بعد سے مین ہول کھلا پڑا تھا۔

اس سے قبل کے ایم سی نے نیپا فلائی اوور کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والے بچے کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا ذمہ دار بی آر ٹی تعمیرات اور نجی اسٹور کی انتظامیہ کو قرار دے دیا۔

کے ایم سی نے گلشن اقبال ٹاؤن میں نیپا فلائی اوور کے قریب نجی اسٹور کے سامنے بچے کے گٹر میں گرنے کے واقعے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ سیکریٹری محکمہ بلدیات کو بھجوا دی ہے۔

کراچی: نیپا پر کھودا گیا مقام 3 دن بعد بھی ویسا ہی ہے، گڑھا بند کرنے کا دعویٰ غلط نکلا

نجی اسٹور کے باہر کھودا جانے والا مقام تین دن بعد بھی ویسا ہی ہے، قریب چھوٹے بلاکس رکھے گئے ہیں۔

سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز عمران راجپوت نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ میئر کراچی کے حکم پر میونسپل سروسز نے بچے کی تلاش کا آپریشن شروع کیا، گلشن ٹاؤن کے لنک نالے سے بچے کی لاش برآمد ہوئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معائنے میں ثابت ہوا حادثے کی وجہ بی آر ٹی تعمیرات تھیں، بی آر ٹی منصوبے کی کھدائی کے باعث نالے کے پورے نکاسی کے نظام شدید نقصان پہنچا، عارضی دو فٹ کے کور لگا کر گٹروں کو بند کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

کے ایم سی کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریڈ لائن منصوبے کی جانب سے ایک جگہ مین ہول کھلا رہنے سے سانحہ ہوا، یہ طریقہ کار اور غیر معیاری ڈھکن کبھی کے ایم سی نے استعمال نہیں کیے۔

کراچی: مین ہول میں گر کر جاں بحق بچے کی نماز جنازہ ادا، اہلخانہ کا میئر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

بچے کے نانا نے میئر کراچی سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ لینے کیلئے سب آتے ہیں لیکن ان کی مدد کو کوئی نہیں آیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی آر ٹی نے کام شروع کرنے سے پہلے کے ایم سی کو آگاہ نہیں کیا، کھدائی بی آر ٹی نے کی اور بعد میں صورتحال کو نظرانداز کیا، نجی اسٹور انتظامیہ اور بی آر ٹی کی وجہ سے بچہ گٹر میں گرا، افسران کی نگرانی میں کھدائی شدہ تمام حصے بھر دیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ اتوار کی شب 10 بجے کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب واقع ڈپارٹمیٹل اسٹور سے 3 سالہ بچہ ابراہیم والدین کے ہمراہ نکل کر مین ہول پر کھڑا ہو گیا تھا جس کا ڈھکن نہ ہونے کی وجہ سے عارضی طور پر اسے گتے کی مدد سے بند کیا گیا تھا۔

اس موقع پر گتہ بچے کا وزن برداشت نہ کر سکا جس کے بعد ابراہیم مین ہول میں گر کر لاپتہ ہوگیا تھا، کھلے مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش 15 گھنٹے بعد ایک کلو میٹر دور نالے سے ملی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: نجی اسٹور کے مین ہول میں رپورٹ میں کے ایم سی بی آر ٹی کا ڈھکن بچے کی

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے