WE News:
2026-07-24@04:06:17 GMT

پاک افغان امن معاہدہ کتنا دیرپا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

یہ تو سب نے سن لیا کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہوگیا۔ خواجہ آصف نے ملا یعقوب کو شکست فاش دی۔ قطر اور ترکیہ ضامن بنے۔ معاہدے کی شقوں پر عمل نہ ہونے کی صورت میں دونوں فریق سہ ماہی جائزہ لیں گے۔ یہ وعدہ کیا گیا کہ افغانستان سے اب دراندازی نہیں ہوگی، مہاجرین کے ساتھ بھی نرمی اختیار کی جائے گی۔

میڈیا کو بھی آگ بھڑکانے سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اب تجارت کے راستے بھی کھل جائیں گے۔ اطراف کے عوام خوشحالی کا منہ دیکھیں گے۔ جنگ و جدل بند ہوگا اور دہشتگردی کو شکست دی جائے گی۔

معاہدے کی سب شقیں خوش آئند ہیں، لیکن بنیادی سوال یہی ہے کہ یہ معاہدہ کتنا دیرپا ہے؟ یا یہ جنگ بندی عارضی ثابت ہوگی؟ امن کی کیفیت کی ضمانت کب تک ہے؟ بم دھماکوں اور دہشتگردی کے واقعات میں وقفہ کب تک رہے گا؟ امن کی خواہش ایک ارفع خواہش ہے مگر کیا اس خواہش پر عمل پیرا ہونا ممکن ہے؟ کیا افغانستان میں دہائیوں سے جاری جنگی صورتِ حال کو بدلا جا سکتا ہے؟ کیا دہشتگردی کے تاجروں کو کوئی اور روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے؟ کیا جنگ کے گرد گھومتے افغانوں کا طرزِ زندگی اور طرزِ معاش تبدیل کیا جا سکتا ہے؟

پاکستان نے تقریباً 45 برس افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھایا۔ بے سر و سامان حال میں آنے والے ان مہاجرین کو اپنی مملکت میں سر چھپانے کی جگہ دی گئی۔ روس کے استبداد سے بچ کر یہاں آنے والے ان مفلوک الحال لوگوں کے لیے یہ ایک جواب تھا۔

ایران میں بھی مہاجرین گئے مگر وہاں انہیں شہروں میں داخلے کی ممانعت رہی۔ وہاں دور دراز ویرانوں میں کیمپ بنائے گئے اور پھر انہیں ان کیمپوں سے نکلنے نہیں دیا گیا۔ یہ مہاجرین آج بھی انہی کیمپوں میں رہتے ہیں مگر ایرانی طرزِ معاشرت، معیشت اور حکومت کا حصہ نہیں بن سکے۔

دوسری طرف پاکستان نے اپنے سارے دروازے افغان مہاجرین کے لیے کھول دیے۔ انہیں اپنے گھروں میں جگہ دی گئی۔ انہیں جائیداد خریدنے کی اجازت ملی۔ انہیں کاروباروں میں سہولت فراہم کی گئی۔ یہاں تک کہ اسلام آباد کے بہت سے علاقے ان کے ’زیرِقبضہ‘ رہے۔ ان علاقوں سے گزریں تو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کابل کے کسی بازار سے گزر رہے ہیں۔ ان کے رشتے ہمارے ساتھ بن گئے۔ ان کی نسلیں یہاں جوان ہوئیں، اور ان کے بچوں نے یہاں کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔

45 برس بہت طویل عرصہ ہوتا ہے۔ اس عرصے میں 2 نسلیں آگے بڑھ جاتی ہیں۔ بچہ پیدا ہو کر جوان اور درمیانی عمر کو پہنچ جاتا ہے، اور ایک اور نسل پیدا ہو کر جوان ہو چکی ہوتی ہے۔

اتنے برس کوئی جانور بھی ساتھ رہے تو مکمل وفادار بن جاتا ہے؛ کوئی اپنے محسنوں سے دغا نہیں کرتا۔ اتنے برس میں کمائے گئے احسانات کو ہلکا نہیں سمجھا جاتا۔ جس ملک میں 45 سال گزارے ہوں، اس ملک سے دغا نہیں کرنا چاہیے؛ وہاں کے احسانات اور وہاں کی حرمت کو تسلیم کرنا چاہیے۔

لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے تمام تر احسانات کے باوجود بعض طالبانوں نے ہم سے وفا نہیں کی۔ جہاں جہاں موقع ملا، اس دھرتی کو نقصان پہنچایا گیا۔ کبھی بم دھماکے کیے گئے، کبھی اغوا برائے تاوان میں ملوث پائے گئے، کبھی دہشتگردی میں ان کا نام سامنے آیا۔ کبھی جعفر ایکسپریس واقعے سے ان کے رابطے نکلے، کبھی اسکولوں پر حملوں میں ان کے نام آئے۔ تخریب کاری کے کئی واقعات ان کے نام ہوئے۔ ہماری مساجد اور مدرسوں میں بم نصب کیے گئے؛ ہمارے گھروں کو جلایا گیا۔

اس لیے اس معاہدے پر شک کی وجہ واضح ہے۔ وہ لوگ جو ہمارے احسانات کو بھول گئے، انہوں نے ہمارے بچوں کا قتل کیا، انہوں نے مساجد کو میدانِ کارزار بنایا، انہوں نے ہمارے بازاروں میں خوف پھیلایا اور ان کے ذریعے سرحد پار سے دہشتگرد آتے رہے۔ یہ سب وہی لوگ ہیں جنہیں ہمارا ممنون احسان ہونا چاہیے تھا، انہیں ہمارے ساتھ وفاداری دکھانی چاہیے تھی۔لیکن انہوں نے احسان فراموشی ہے کا مظاہرہ کیا بلکہ اگر اسے زیادہ سخت نہ سمجھا جائے تو  یہ نمک حرامی ہے۔

اس معاہدے کی ایک وجہ ہماری جوابی کارروائیاں بھی ہیں۔ پہلی بار ہم نے صرف مذمت نہیں کی بلکہ بدلہ بھی لیا۔ ہمیں سبق سکھایا گیا۔ دہائیوں سے پھیلی بے بسی کو پسِ پشت رکھا گیا اور سرحد پار بھی یہ پیغام دیا گیا کہ ہم دوستوں سے محبت کرتے ہیں مگر جو دوست کے روپ میں دشمن بنے، انہیں بھی پہچانتے ہیں۔ پہلی بار ہمارا ردِ عمل اتنا شدید تھا کہ مذاکراتی میز کے سوا افغانوں کے پاس اور کوئی چارہ نہ رہا۔ امن معاہدے پر دستخط کرنے کے سوا کچھ اور ممکن نہ تھا۔

موجودہ پاک افغان کشیدگی میں پہلی بار یہ بات واضح ہوئی کہ ہارڈ سٹیٹ کیا ہوتی ہے اور اس کی ضرورت کس بنا پر پیش آچکی ہے۔

ہارڈ سٹیٹ سے مراد یہ ہے کہ اگر ہمارے خلاف افغانستان سے دہشتگردی کے حملے ہوں تو ہم صرف تعزیت نہیں کریں گے، صرف ورثاء کے لیے انعامی رقم کا اعلان بھی نہیں کریں گے، بلکہ اس کا بدلہ بھی لیں گے اور آخری حد تک لینے کے حق میں ہوں گے۔ ہم نے صرف تعزیتیں نہیں کرنی بلکہ مجرموں کو کیفرِ کردار تک بھی پہنچانا ہے۔ ہم نے صرف مرنے والوں کے لیے دعائیں نہیں کرنی بلکہ زندہ بچ جانے والوں کی سلامتی کے لیے اقدام بھی کرنا ہے۔

بات اب صرف افغان سرحد تک محدود نہیں ہارڈ سٹیٹ نے ہر اس فرد اور ادارے کو قانون کے دائرے میں لانا ہے جو ان مجرموں کی پشت پناہی کرتا ہے۔ چاہے اس کا تعلق میڈیا سے ہو، کاروباری شخصیات سے ہو، کوئی مذہبی انتہا پسند جماعت ہو، صوبائی حکومت ہو، یا سوشل میڈیا پر ملک کے خلاف صفحات چلانے والے افراد ہوں۔ اب ہارڈ سٹیٹ کسی نرمی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اور یہ فیصلہ ہر قسم کی سیاست، مفاہمت اور مصلحت سے بالاتر ہے۔ یہی بات حتمی اور اٹل ہے، اور اسی پر ہمارا محفوظ مستقبل منحصر ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ہارڈ سٹیٹ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف