WE News:
2026-07-24@09:15:52 GMT

پاک افغان امن معاہدہ کتنا دیرپا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

یہ تو سب نے سن لیا کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہوگیا۔ خواجہ آصف نے ملا یعقوب کو شکست فاش دی۔ قطر اور ترکیہ ضامن بنے۔ معاہدے کی شقوں پر عمل نہ ہونے کی صورت میں دونوں فریق سہ ماہی جائزہ لیں گے۔ یہ وعدہ کیا گیا کہ افغانستان سے اب دراندازی نہیں ہوگی، مہاجرین کے ساتھ بھی نرمی اختیار کی جائے گی۔

میڈیا کو بھی آگ بھڑکانے سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اب تجارت کے راستے بھی کھل جائیں گے۔ اطراف کے عوام خوشحالی کا منہ دیکھیں گے۔ جنگ و جدل بند ہوگا اور دہشتگردی کو شکست دی جائے گی۔

معاہدے کی سب شقیں خوش آئند ہیں، لیکن بنیادی سوال یہی ہے کہ یہ معاہدہ کتنا دیرپا ہے؟ یا یہ جنگ بندی عارضی ثابت ہوگی؟ امن کی کیفیت کی ضمانت کب تک ہے؟ بم دھماکوں اور دہشتگردی کے واقعات میں وقفہ کب تک رہے گا؟ امن کی خواہش ایک ارفع خواہش ہے مگر کیا اس خواہش پر عمل پیرا ہونا ممکن ہے؟ کیا افغانستان میں دہائیوں سے جاری جنگی صورتِ حال کو بدلا جا سکتا ہے؟ کیا دہشتگردی کے تاجروں کو کوئی اور روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے؟ کیا جنگ کے گرد گھومتے افغانوں کا طرزِ زندگی اور طرزِ معاش تبدیل کیا جا سکتا ہے؟

پاکستان نے تقریباً 45 برس افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھایا۔ بے سر و سامان حال میں آنے والے ان مہاجرین کو اپنی مملکت میں سر چھپانے کی جگہ دی گئی۔ روس کے استبداد سے بچ کر یہاں آنے والے ان مفلوک الحال لوگوں کے لیے یہ ایک جواب تھا۔

ایران میں بھی مہاجرین گئے مگر وہاں انہیں شہروں میں داخلے کی ممانعت رہی۔ وہاں دور دراز ویرانوں میں کیمپ بنائے گئے اور پھر انہیں ان کیمپوں سے نکلنے نہیں دیا گیا۔ یہ مہاجرین آج بھی انہی کیمپوں میں رہتے ہیں مگر ایرانی طرزِ معاشرت، معیشت اور حکومت کا حصہ نہیں بن سکے۔

دوسری طرف پاکستان نے اپنے سارے دروازے افغان مہاجرین کے لیے کھول دیے۔ انہیں اپنے گھروں میں جگہ دی گئی۔ انہیں جائیداد خریدنے کی اجازت ملی۔ انہیں کاروباروں میں سہولت فراہم کی گئی۔ یہاں تک کہ اسلام آباد کے بہت سے علاقے ان کے ’زیرِقبضہ‘ رہے۔ ان علاقوں سے گزریں تو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کابل کے کسی بازار سے گزر رہے ہیں۔ ان کے رشتے ہمارے ساتھ بن گئے۔ ان کی نسلیں یہاں جوان ہوئیں، اور ان کے بچوں نے یہاں کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔

45 برس بہت طویل عرصہ ہوتا ہے۔ اس عرصے میں 2 نسلیں آگے بڑھ جاتی ہیں۔ بچہ پیدا ہو کر جوان اور درمیانی عمر کو پہنچ جاتا ہے، اور ایک اور نسل پیدا ہو کر جوان ہو چکی ہوتی ہے۔

اتنے برس کوئی جانور بھی ساتھ رہے تو مکمل وفادار بن جاتا ہے؛ کوئی اپنے محسنوں سے دغا نہیں کرتا۔ اتنے برس میں کمائے گئے احسانات کو ہلکا نہیں سمجھا جاتا۔ جس ملک میں 45 سال گزارے ہوں، اس ملک سے دغا نہیں کرنا چاہیے؛ وہاں کے احسانات اور وہاں کی حرمت کو تسلیم کرنا چاہیے۔

لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے تمام تر احسانات کے باوجود بعض طالبانوں نے ہم سے وفا نہیں کی۔ جہاں جہاں موقع ملا، اس دھرتی کو نقصان پہنچایا گیا۔ کبھی بم دھماکے کیے گئے، کبھی اغوا برائے تاوان میں ملوث پائے گئے، کبھی دہشتگردی میں ان کا نام سامنے آیا۔ کبھی جعفر ایکسپریس واقعے سے ان کے رابطے نکلے، کبھی اسکولوں پر حملوں میں ان کے نام آئے۔ تخریب کاری کے کئی واقعات ان کے نام ہوئے۔ ہماری مساجد اور مدرسوں میں بم نصب کیے گئے؛ ہمارے گھروں کو جلایا گیا۔

اس لیے اس معاہدے پر شک کی وجہ واضح ہے۔ وہ لوگ جو ہمارے احسانات کو بھول گئے، انہوں نے ہمارے بچوں کا قتل کیا، انہوں نے مساجد کو میدانِ کارزار بنایا، انہوں نے ہمارے بازاروں میں خوف پھیلایا اور ان کے ذریعے سرحد پار سے دہشتگرد آتے رہے۔ یہ سب وہی لوگ ہیں جنہیں ہمارا ممنون احسان ہونا چاہیے تھا، انہیں ہمارے ساتھ وفاداری دکھانی چاہیے تھی۔لیکن انہوں نے احسان فراموشی ہے کا مظاہرہ کیا بلکہ اگر اسے زیادہ سخت نہ سمجھا جائے تو  یہ نمک حرامی ہے۔

اس معاہدے کی ایک وجہ ہماری جوابی کارروائیاں بھی ہیں۔ پہلی بار ہم نے صرف مذمت نہیں کی بلکہ بدلہ بھی لیا۔ ہمیں سبق سکھایا گیا۔ دہائیوں سے پھیلی بے بسی کو پسِ پشت رکھا گیا اور سرحد پار بھی یہ پیغام دیا گیا کہ ہم دوستوں سے محبت کرتے ہیں مگر جو دوست کے روپ میں دشمن بنے، انہیں بھی پہچانتے ہیں۔ پہلی بار ہمارا ردِ عمل اتنا شدید تھا کہ مذاکراتی میز کے سوا افغانوں کے پاس اور کوئی چارہ نہ رہا۔ امن معاہدے پر دستخط کرنے کے سوا کچھ اور ممکن نہ تھا۔

موجودہ پاک افغان کشیدگی میں پہلی بار یہ بات واضح ہوئی کہ ہارڈ سٹیٹ کیا ہوتی ہے اور اس کی ضرورت کس بنا پر پیش آچکی ہے۔

ہارڈ سٹیٹ سے مراد یہ ہے کہ اگر ہمارے خلاف افغانستان سے دہشتگردی کے حملے ہوں تو ہم صرف تعزیت نہیں کریں گے، صرف ورثاء کے لیے انعامی رقم کا اعلان بھی نہیں کریں گے، بلکہ اس کا بدلہ بھی لیں گے اور آخری حد تک لینے کے حق میں ہوں گے۔ ہم نے صرف تعزیتیں نہیں کرنی بلکہ مجرموں کو کیفرِ کردار تک بھی پہنچانا ہے۔ ہم نے صرف مرنے والوں کے لیے دعائیں نہیں کرنی بلکہ زندہ بچ جانے والوں کی سلامتی کے لیے اقدام بھی کرنا ہے۔

بات اب صرف افغان سرحد تک محدود نہیں ہارڈ سٹیٹ نے ہر اس فرد اور ادارے کو قانون کے دائرے میں لانا ہے جو ان مجرموں کی پشت پناہی کرتا ہے۔ چاہے اس کا تعلق میڈیا سے ہو، کاروباری شخصیات سے ہو، کوئی مذہبی انتہا پسند جماعت ہو، صوبائی حکومت ہو، یا سوشل میڈیا پر ملک کے خلاف صفحات چلانے والے افراد ہوں۔ اب ہارڈ سٹیٹ کسی نرمی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اور یہ فیصلہ ہر قسم کی سیاست، مفاہمت اور مصلحت سے بالاتر ہے۔ یہی بات حتمی اور اٹل ہے، اور اسی پر ہمارا محفوظ مستقبل منحصر ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ہارڈ سٹیٹ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

اسلامی اقدار اور جدید دور

آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا