اسلام آباد: پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے، مگر اس ترقی کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل فراڈ اور مالیاتی اسکیمز میں بھی خطرناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

بین الاقوامی الائنس کی جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان ہر سال 9.3 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان مالیاتی دھوکا دہی اور آن لائن فراڈ کے باعث اٹھا رہا ہے، جو کہ ملک کے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 2.

5 فیصد بنتا ہے۔ یہ نقصان اسٹیٹ بینک یا آئی ایم ایف جیسے اداروں کے بڑے قرض پروگراموں سے بھی کہیں زیادہ تشویش ناک قرار دیا جا رہا ہے۔

گلوبل اینٹی اسکیم الائنس اور فیڈزائی کی مشترکہ گلوبل اسٹیٹ آف اسکیمز رپورٹ 2025 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان ان ترقی پذیر ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں ڈیجیٹل فراڈ معیشت کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں گزشتہ برس کے دوران 442 ارب ڈالر کے نقصانات رپورٹ ہوئے، جب کہ ہر دس میں سے سات بالغ افراد کسی نہ کسی دھوکے باز اسکیم کا نشانہ بنے۔

پاکستان میں اگرچہ فی کس نقصان دیگر ممالک کی نسبت کم یعنی اوسطاً 139 ڈالر ہے، مگر مجموعی طور پر یہ رقم اربوں روپے کے مالی نقصان میں بدل جاتی ہے۔ سب سے زیادہ دھوکا دہی کے کیسز آن لائن خریداری (54 فیصد)، جعلی سرمایہ کاری اسکیمز (48 فیصد) اور جعلی انعامی اسکیموں (48 فیصد) سے متعلق پائے گئے۔ ہیکرز اور فراڈیے زیادہ تر رقوم بینک ٹرانسفرز (29 فیصد) اور کریڈٹ کارڈز (18 فیصد) کے ذریعے منتقل کرتے ہیں۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سینئر جوائنٹ ڈائریکٹر برائے سائبر رسک مینجمنٹ ریحان مسعود کے مطابق مالیاتی فراڈ سے بچنے کے لیے عوامی آگاہی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب کوئی بھی بینک اکاؤنٹ غیر شناخت شدہ ڈیوائس سے استعمال نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ بینکنگ سسٹم میں دو مرحلہ جاتی توثیق (Two-Step Verification) اور بائیومیٹرک تصدیق کو لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات سے مالیاتی فراڈ کے 90 فیصد سے زائد کیسز کم ہوئے ہیں، لیکن اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں صارفین خود ہی اپنے پن کوڈز یا او ٹی پی اسکیمرز کے ساتھ شیئر کر دیتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر فراڈیے شہریوں کو ایس ایم ایس، واٹس ایپ یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے نشانہ بناتے ہیں۔ وہ جعلی بینک نمائندوں کے نام پر کالز کرتے ہیں یا پارسل کمپنیوں کی آڑ میں دھوکا دہی کرتے ہیں، اور صارفین سے حساس معلومات حاصل کرکے ان کے اکاؤنٹس خالی کر دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کے شہریوں کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل خواندگی (Digital Literacy) کو سنجیدگی سے لیں، کیونکہ صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ آگاہی ہی ان دھوکے بازوں سے محفوظ رہنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: کے مطابق رہا ہے

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے