گیدڑ کے 100 سالہ اقتدار سے شیر کا ایک روزہ اقتدار بہتر ہے، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کے معاملے پر ہمارا مؤقف واضح ہے، چالیس سال گزارنے والے افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ گیدڑ کے 100 سالہ اقتدار سے شیر کا ایک روزہ اقتدار بہتر ہے اور اب صوبے کی عوام کو حقیقی معنوں میں تبدیلی نظر آئے گی۔ خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کے معاملے پر ہمارا مؤقف واضح ہے، چالیس سال گزارنے والے افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور وفاق کی جانب سے آٹے کی ترسیل روکی گئی ہے، اپوزیشن وفاق سے صوبے کا حق مانگنے میں اپنا کردار ادا کرے، گیدڑ کے 100 سالہ اقتدار سے شیر کا ایک روزہ اقتدار بہتر ہے، وعدہ کرتا ہوں کہ صوبے کی عوام کا سر کبھی نہیں جھکاؤں گا، میرا اقتدار صوبے کی عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ہوگا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے کے پی پولیس کیلئے ناکارہ بلٹ پروف گاڑیاں بھیجیں جو پولیس کی تضحیک کے مترادف ہے، یہ گاڑیاں واپس وفاق کو دیں گے، ہم اپنے صوبے کے فیصلے خود کریں گے اور کسی بند کمروں کے فیصلے کو نہیں مانیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بیوروکریسی اور دیگر اداروں کو احکامات دیے ہیں کہ کسی سیاسی ورکر کو تھری ایم پی او کے تحت اور طلبہ کو احتجاج کے دوران گرفتار نہ کیا جائے اور ان کے خلاف مقدمات درج نہ کیے جائیں، میرٹ اور ٹرانسپیرنسی کی پالیسی تیار کی جائے گی، نیو ٹریلین ٹری منصوبے کا بہت جلد افتتاح کیا جائے گا اور صوبے کی عوام کو حقیقی معنوں میں تبدیلی نظر آئے گی۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ میرے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد میرے خلاف پریس کانفرنس کی گئی اور ایک بیانیہ بنایا گیا، اگر آئین و قانون کی بات کرنا ٹکراؤ ہے تو میں ڈنکے کی چوٹ پر اس ٹکراؤ کیلئے تیار ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملنے نہیں دیا جا رہا جس پر تمام ترقانونی فورمز جانے کے بعد معاملہ عوام کی عدالت میں رکھوں گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فریدی کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین سہیل ا فریدی صوبے کی عوام
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز