ایران کا دفاعی لحاظ سے 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہو چکا ہے، جنرل نقدی
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
اپنی گفتگو میں ایرانی جنرل نے کہا کہ نے کہا ٹرمپ مستقبل میں استکباری نظام بلکہ خود امریکہ کی تباہی اور زوال کا باعث بنے گا، وہ کم فہم ترین صدور میں سے ایک ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سابق معاون کوارڈینیٹر جنرل محمد رضا نقدی نے ملکی دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل پیشرفت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج ہمارے دفاعی آلات اور توانائیاں 12 جنگ روزہ کے زمانے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور پیشرفتہ ہیں، اور یہ ترقی تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دفاعی ٹیکنالوجی مکمل طور پر مقامی اور خودانحصاریت کا نتیجہ ہے، اسی لیے اسے ہم مسلسل ترقی اور جدیدیّت کی طرف لے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگی حالات میں فوجی ضروریات اپنی انتہا کو پہنچتی ہیں، اور یہ فطری بات ہے کہ ہماری صلاحیتیں بھی اسی رفتار سے بڑھائی جائیں، 12 روزہ جنگ کے تجربے کے بعد آج ہم نہ صرف اس سے زیادہ جدید آلات رکھتے ہیں بلکہ ہماری فوجی و صنعتی توانائیاں بھی کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا ٹرمپ مستقبل میں استکباری نظام بلکہ خود امریکہ کی تباہی اور زوال کا باعث بنے گا، وہ کم فہم ترین صدور میں سے ایک ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔