پاکستان اور یورپی یونین میں جی ایس پی پلس تعاون مزید مستحکم بنانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
اسلام آباد: پاکستان اور یورپی یونین کے مابین جی ایس پی پلس تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق ہوگیا۔
وزارتِ تجارت میں ہونے والی ایک اہم ملاقات کے دوران پاکستان اور یورپی یونین نے جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت شراکت کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کی ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے تفصیلی ملاقات کی، جس میں تجارت، سرمایہ کاری اور انسانی حقوق کے فروغ پر جامع تبادلۂ خیال ہوا۔
ملاقات کے دوران فریقین نے اتفاق کیا کہ جی ایس پی پلس فریم ورک نہ صرف پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی تعلقات کو مستحکم کرتا ہے بلکہ پائیدار ترقی اور شفاف شراکت داری کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیرِ تجارت جام کمال خان نے وفد کو انسانی حقوق، مزدوروں کی فلاح، موسمیاتی اقدامات اور سماجی اصلاحات سے متعلق حالیہ حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔
جام کمال خان نے بتایا کہ پاکستان نے انسانی حقوق کے تحفظ میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کو “A اسٹیٹس” کی عالمی درجہ بندی ملنا اسی پیش رفت کا اعتراف ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے کم عمری کی شادی کے خلاف اسلام آباد چائلڈ میرج ری اسٹرینٹ ایکٹ منظور کیا ہے جب کہ صحافیوں کے تحفظ اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بھی اہم قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔
وزیرِ تجارت نے کہا کہ پاکستان کی معیشت صنعتی توسیع اور ہنرمند افرادی قوت پر انحصار کرتی ہے۔ ملک کی 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے، اس لیے پیشہ ورانہ تربیت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے وفد کو بتایا کہ حکومت نے مالیاتی پالیسی میں بہتری کے لیے شرحِ سود کو 22 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد تک لایا ہے، تاکہ صنعتوں کو فروغ دیا جا سکے۔
یورپی وفد نے پاکستان کی مہمان نوازی، مثبت شراکت داری اور سماجی اصلاحات کو سراہا۔ دونوں فریقوں نے باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور پائیدار ترقی کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ملاقات کے دوران یورپی سرمایہ کاروں کو زراعت، خوراک، صنعت اور ای کامرس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی گئی۔
یہ ملاقات پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں ایک مثبت سنگ میل سمجھی جا رہی ہے، جو مستقبل میں نہ صرف تجارتی حجم بڑھانے بلکہ روزگار اور برآمدات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل پاکستان اور یورپی یونین جی ایس پی پلس پر اتفاق
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔