کراچی میں مزارِ قائد پر کشمیر کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یومِ سیاہ ریلی
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
ریلی کی قیادت کرتے ہوئے صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یومِ سیاہ کے موقع پر پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے اور ان کی جدوجہد میں اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتی ہے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ مزارِ قائد اعظم پر کشمیر کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یومِ سیاہ ریلی نکالی گئی، جس کی قیادت صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کی۔ ریلی میں صوبائی وزیر اوقاف ریاض شیرازی، ایڈیشنل کمشنر کراچی غلام مہدی شاہ، ڈپٹی میئر سلمان مراد، حریت کانفرنس کے رہنما شیخ عبدالمتین بٹ کے علاوہ اسکولوں کے طلبہ کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کی قربانیوں کا احترام کرتی ہے اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عالمی سطح پر کشمیر کی آزادی کے لیے بھرپور آواز بلند کی ہے، جو کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مضبوط ترجمانی ہے۔ صوبائی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یومِ سیاہ کے موقع پر پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے اور ان کی جدوجہد میں اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرتی ہے
پڑھیں:
کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘