ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کے نفاذ کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
پاکستان ایئر پورٹس اتھارٹی نے ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کے نفاذ کا آغاز کر دیا۔
ہیڈ کوارٹرز پاکستان ایئر پورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے حکومت پاکستان کی ہدایات اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اقدام کے تحت ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کے نفاذ کا عمل شروع کر دیا ہے۔
ترجمان کے مطابق ہوائی اڈوں پر موجود تمام تجارتی مراکز اور سروس فراہم کرنے والوں کو ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو اپنانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
ترجمان کے مطابق یہ اقدام مسافروں کے لیے سہولت، شفاف لین دین اور جدید مالی نظام کو فروغ دینے میں مدد گار ثابت ہوگا۔
ترجمان کے مطابق مسافر نئے نظام کو اپنانے کے ساتھ ساتھ نقد ادائیگی بھی کرسکیں گے، تاہم ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقے اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام ہوائی اڈوں پر
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔