WE News:
2026-07-24@05:33:04 GMT

کیا افغانستان دوست ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT

کیا افغانستان دوست ملک ہے؟ اس سوال کا جواب دل سے مانگوں تو وہ یکسو ہے کہ ہاں افغانستان ایک دوست  ملک ہے مگر یہی سوال عقل سے پوچھ بیٹھوں تو وہ  جواب میں بہت سارے سوالات سامنے رکھ دیتی ہے اور کہتی ہے کہ ان کا جواب تلاش کر لو اور پھر خود ہی فیصلہ کر لو۔

میں یہی سوال آج آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں تا کہ ہم مل جل کر ان پر غور کریں اورکسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کریں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ملک اتنا سادہ  اور معصوم  ہو سکتا ہے کہ بھارت جیسا ملک آئے اور سنہ 1947 سے لے کر اب تک افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال ہی کرتا رہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ افغانستان  خود ہی پاکستان پر بھاؤ کھائے بیٹھا ہو اور اسے صرف موقع کی تلاش رہتی ہو؟

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں بھارت کی اسٹریٹیجک ڈیپتھ

 دونوں میں ایک قدر مشترک ہے جو ہمارے ہاں کم ہی زیر بحث آئی ہے ۔ بھارت  یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کے قیام نے بھارت ماتا کی تقسیم کی ہے۔ افغانستان کا یہ خیال ہے کہ پاکستان کے قیام سے افغانستان کی زمین تقسیم ہوئی ہے۔

بھارت کا بھی پاکستان کی زمین پر دعویٰ ہے اور حکومت کانگریس کی ہو یا بی جے پی کی، یہ دعویٰ قائم رہتا ہے۔

اسی طرح افغانستان کا بھی پاکستان کی زمین پر دعویٰ ہےاور حکومت ظاہر شاہ کی ہو، کرزئی کی ہو یا طالبان کی، اس دعوے میں کوئی فرق نہیں آتا۔

دنیا میں صرف 2 ہی ملک ہیں جو پاکستان کی سلامتی کے خلاف باقاعدہ ایک مؤقف رکھتے ہیں اور اس کی زمین پر قبضے کی اعلانیہ خواہش رکھتے ہیں۔ ایک بھارت ہے جو آج تک پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کر پایا، دوسرا افغانستان ہے جس کے وزرا دوحہ امن معاہدے کے اعلان کی بازگشت ختم ہونے سے پہلے، ساتھ ہی ڈیورنڈ لائن کی نفی بھی فرما دیتے ہیں۔

پاکستان کا نہ بھارت کی زمین پر کوئی دعویٰ ہے نہ افغانستان کی زمین پر۔ ( مقبوضہ کشمیر کا تنازعہ ایک الگ چیز ہےاور وہ بھارت کا حصہ نہیں ہے) لیکن ان دونوں ممالک کا بنیادی مؤقف ہی پاکستان کی جغرافیائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

 بھارت بھی پاکستان  کے خلاف پانی کو ہتھیار بنا چکا ہے اور افغانستان بھی بھارت کی مالی معاونت کے ساتھ اسی راستے پر چل رہا ہے۔

 بھارت کا کہنا ہے وہ سندھ طاس نامی کسی معاہدے کو نہیں مانتا اور افغانستان کے ساتھ پانی کی تقسیم کے لیے پاکستان کم از کم پچھلے 25 سال سے کوششیں کر رہا ہے لیکن افغانستان ایسے کسی معاہدے پر راضی نہیں ہوا۔

ڈیم بنانا ہر ملک کا حق ہے اور افغانستان کا بھی۔ لیکن بین الاقوامی قانون کے مطابق  نیچے کی طرف  واقع ریاستوں کا بھی پانی پر حق ہوتا ہے اور اس حق کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے جہاں بین الاقوامی قوانین موجود ہیں وہیں دو طرفہ معاہدے بھی کیے جاتے ہیں۔ پاکستان عشروں سے اس معاملے میں افغانستان کے ساتھ معاہدے کی کوشش کر رہا ہے مگر افغانستان نہیں مان رہا۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ ایران کے ساتھ تو افغانستان کا پانی کی تقسیم کا معاہدہ موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان سے ایسا کون سا قصور ہوا ہے کہ اس کے ساتھ نہ قوم پرست حکومت کوئی معاہدہ کرنے کو تیار تھی نہ اسلام پسند حکومتوں کو یہ گوارا ہوا؟

مزید پڑھیے: ’عمران خان ہی ریاست ہیں

قوم پرست تھے تو ہمیں بتایا جاتا تھا کہ وہ ناراض تھے کہ پاکستان نے امریکا کو دھوکہ کیوں دیا اور اندرون خانہ طالبان کا ساتھ کیوں دیا۔ اب طالبان ہیں تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ وہ خفا ہیں کہ پاکستان نے امریکا کا ساتھ کیوں دیا؟ یعنی ان میں اتفاق صرف اس بات پر ہے کہ پاکستان کا بازو مروڑنا ہی مروڑنا ہے۔

کیا ایران نے پاکستان سے زیادہ افغانستان کی خیر خواہی کی تھی؟ ایران نے تو افغان مہاجرین کو کیمپوں تک محدود رکھا، ہمارے معاشرے نے تو انہیں دل میں جگہ دی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ ان کی  تلخی تھمنے کو نہیں آ رہی اور اطراف میں باقی سب  کے ساتھ ان کی جانب سے سب خیریت ہے؟

ریاستیں ایک دوسرے کا ساتھ بھی دیتی ہیں اور مل کر لڑتی بھی ہیں لیکن یہ صرف ہمارے ہاں ہوا کہ ہم نے سالہا سال تک افغانستان کو یوں ہیرو بنا کر پیش کیا کہ اب بعض حلقے ان کے مقابل خود اپنی ریاست پر فرد جرم عائد کر  رہے ہوتے ہیں۔ ایسی خوف ناک فالٹ لائن ہمارے علاوہ شاید ہی کسی ملک میں پیدا ہوئی ہو۔ اس فالٹ لائن کا کوئی علاج کیا کہیں زیر بحث ہے؟

مزید پڑھیں: بیت اللہ سے

افغانستان کے جتنے خیر خواہ پاکستان میں پائے جاتے ہیں کیا پاکستان کے اتنے خیر خواہ افغانستان میں بھی پائے جاتے ہیں؟ یہ جذبات اگر خیر خواہی پر ہی مبنی ہیں  تو یہ خیر خواہی یک طرفہ کیوں ہے؟ یہ خیر خواہی ہی ہے یا یہ  پراکسی ہے سماج کی رگوں میں اتر چکی ہے؟

کیا ہم اس معاملے کی سنگینی کو سمجھ رہے ہیں؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

افغانستان پاک افغان تعلقات پاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان پاک افغان تعلقات پاکستان ہے کہ پاکستان افغانستان کا پاکستان کی پاکستان کے کی زمین پر خیر خواہی کے ساتھ ہے اور کے لیے کا بھی

پڑھیں:

فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔

وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں  کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں،  ایسے اقدامات جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن وسلامتی اور استحکام کے لیے مملکت و عالمی برادری کےساتھ تعاون جاری رکھے گا، پاکستان بحیرہ احمر، آبنائےہرمز اور سمندری تجارت کی بلاتعطل روانی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

وزیراعظم نےخادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا