اسرائیل کے حملے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں، دفاع ہیں، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
خبر رساں ادارہ رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں سفر کے دوران کہا ہے کہ کچھ فائرنگ کے واقعات ہوئے ہیں، اور ہمارا خیال ہے کہ شاید اس میں حماس کی اعلیٰ قیادت براہِ راست ملوث نہ ہو، تاہم اگر حماس نے معاہدے پر عمل نہ کیا، تو وہ ختم کر دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی تازہ ترین صورتحال پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کے حالیہ حملے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں بلکہ دفاعی کارروائیاں ہیں۔ جب کہ گزشتہ رات سے اسرائیلی قابض فوج نے غزہ پر زمین، سمندر اور فضاء سے مسلسل حملے شروع کر رکھے ہیں، جن کے نتیجے میں اب تک 37 فلسطینی شہید اور 100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
خبر رساں ادارہ رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں سفر کے دوران کہا ہے کہ یہ حملے نازک جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کرتے، اسرائیل کو حماس کے اقدامات کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، ہاں، جنگ بندی اب بھی برقرار ہے، حالات کو مناسب طور پر سختی سے سنبھالا جائے گا، لیکن منصفانہ انداز میں۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں حماس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ حماس پُرامن رویہ اختیار کرے۔
انہوں نے کہا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، وہ حالیہ دنوں میں کافی باغیانہ انداز اختیار کیے ہوئے ہیں، کچھ فائرنگ کے واقعات ہوئے ہیں، اور ہمارا خیال ہے کہ شاید اس میں حماس کی اعلیٰ قیادت براہِ راست ملوث نہ ہو، تاہم اگر حماس نے معاہدے پر عمل نہ کیا، تو وہ ختم کر دی جائے گی، اسرائیل کو حملوں کا جواب دینے کا پورا حق ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کا مجوزہ نیا مشرقِ وسطیٰ معاہدہ حماس کو ایک ضمنی عنصر کے طور پر دیکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حماس اس بڑے معاہدے کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے، اور اگر اس نے صحیح طرزِ عمل اختیار نہ کیا، تو اسے راستے سے ہٹا دیا جائے گا۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر اسرائیلی جارحیت کے تسلسل پر تنقید بڑھ رہی ہے، مگر امریکی قیادت بدستور اسرائیل کے اقدامات کو جائز دفاع قرار دے رہی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں کہ اسرائیل کی طرف جنگ بندی کی خلاف ورزی نے امریکہ نے اس کی حمایت کی ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جنگ بندی کی خلاف ورزی
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔