امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی مداخلت کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ رک گئی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان لڑائی کے دوران انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستانی قیادت سے رابطہ کیا اور انہیں کہا کہ اگر وہ جنگ کریں گے تو امریکا ان کے ساتھ تجارتی معاہدے نہیں کرے گا۔

ٹرمپ نے ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا، "میں بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے جا رہا تھا۔ مودی سے میری بڑی اچھی دوستی ہے، میں ان کا احترام کرتا ہوں، وہ ایک قاتل ہے اور بہت سخت ہے، اسی طرح پاکستان کا وزیراعظم بھی بہترین انسان ہے۔ ان کے پاس ایک فیلڈ مارشل ہے جو بہت زبردست فائٹر ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "مجھے خبر ملی کہ سات طیارے مار گرائے گئے ہیں، دونوں ملک ایٹمی طاقتیں ہیں اور ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں۔ میں نے مودی کو فون کیا اور کہا کہ ہم آپ سے تجارتی معاہدہ نہیں کر سکتے کیونکہ آپ جنگ شروع کر رہے ہیں۔ پھر میں نے پاکستان کو کال کی اور یہی بات کہی۔ دونوں نے کہا ہمیں لڑنے دیں۔ یہ بہت سخت لوگ ہیں۔"

#WATCH | US President Donald Trump says, "I'm doing a trade deal with India, and I have great respect and love for Prime Minister Modi.

We have a great relationship. Likewise, the Prime Minister of Pakistan is a great guy. They have a Field Marshal. You know why he's a Field… pic.twitter.com/ZbxkpSnBl1

— ANI (@ANI) October 29, 2025

ٹرمپ نے کہا، "میں نے مودی سے کہا، آپ بہت اچھے دکھتے ہیں، مگر آپ سخت آدمی ہیں۔ وہ بولے، نہیں، ہم لڑیں گے۔ لیکن صرف دو دن بعد دونوں ملکوں نے مجھے فون کیا اور کہا کہ ہم سمجھ گئے ہیں اور جنگ رک گئی۔ کیا یہ حیران کن نہیں؟"

انہوں نے طنزیہ انداز میں مزید کہا، "آپ سوچتے ہیں کہ بائیڈن ایسا کر سکتا تھا؟ میرا نہیں خیال!"۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار