جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں نامعلوم مسلح افراد نے گورنمنٹ ہائی اسکول کراباغ کو مکمل طور پر مسمار کر دیا۔

اس واقعے نے علاقے میں تعلیم کے مستقبل پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق، واقعے سے قبل مسلح عناصر نے اعلان کیا تھا کہ اسکول کی عمارت ختم کی جا رہی ہے اور اس کا تمام سامان مالِ غنیمت سمجھ کر اٹھایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنوبی وزیرستان میں 90 فیصد سرکاری اسکول بند

اس اعلان کے بعد متعدد افراد نے زیرِ تعمیر عمارت کا سامان، ٹی آئرن، گاڈر، دروازے، کھڑکیاں اور دیگر قیمتی اشیا موقع سے اٹھا لیں۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح تنظیم کی جانب سے اسکول کی تباہی کا واضح اعلان کیا گیا تھا۔

بعد ازاں، علاقہ مکینوں نے اسکول کے کمروں کی چھتیں گرادیں اور تعمیراتی مواد اپنے ساتھ لے گئے۔

ڈی پی او جنوبی وزیرستان محمد طاہر شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے بتایا کہ اسکول کی عمارت حکومت کی ملکیت ہے اور کسی کو اسے گرانے یا سامان اٹھانے کی اجازت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق، اسکول کی عمارت رات کے وقت اچانک گرادی گئی اور ملبہ سمیت سامان لے جایا گیا۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو گئی ہیں۔

مزید پڑھیں:

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ اسکول سینکڑوں طلبا کے لیے تعلیم کا واحد ذریعہ تھا اور ماضی میں بھی اسے دھماکوں اور حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

اعظم ورسک کے ایک بزرگ شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو اسی اسکول میں پڑھنے کے لیے بھیجا تھا، مگر اب عمارت مسمار کر دی گئی ہے۔

’ہمارے بچوں کا مستقبل تاریکی میں ڈوب گیا ہے۔‘

مزید پڑھیں:

ذرائع کے مطابق، کالعدم تنظیم کو خدشہ تھا کہ اسکول کی عمارت کو سیکیورٹی فورسز عارضی چیک پوسٹ یا قلعہ کے طور پر استعمال نہ کریں، اسی وجہ سے یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

تاہم محکمہ تعلیم کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

علاقہ مکینوں اور سماجی تنظیموں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسکولوں کی تباہی نہ صرف حکومت کی رٹ پر سوالیہ نشان ہے بلکہ علاقے کو تعلیمی پسماندگی کی گہری کھائی میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسکول اعظم ورسک ایف آئی آر تعلیمی سرگرمیاں جنوبی وزیرستان ڈی پی او کالعدم تنظیم محمد طاہر شاہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسکول ایف ا ئی ا ر تعلیمی سرگرمیاں جنوبی وزیرستان ڈی پی او کالعدم تنظیم محمد طاہر شاہ جنوبی وزیرستان اسکول کی عمارت کہ اسکول

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد