غزہ شہر میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 100 سے زائد فلسطینی جان کی بازی ہار گئے ہیں، جن میں 46 بچے بھی شامل ہیں۔
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
یہ حملے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے حکم کے بعد کیے گئے، جنہوں نے غزہ میں فوری اور شدید کارروائی کی ہدایت دی تھی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی حماس کی جانب سے مبینہ طور پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے جواب میں کی گئی۔ جنوب غزہ کے رفح علاقے میں اسرائیلی فوج پر حملے کی اطلاع بھی ملی تھی۔
منگل کی رات نیتن یاہو کے حکم کے بعد اسرائیلی طیاروں نے غزہ کے مختلف علاقوں پر دوبارہ بمباری شروع کی۔ الجزیرہ کے مطابق، ایک میزائل الشفاء اسپتال کے پیچھے بھی گرا، جس سے انسانی ہلاکتیں اور زخمی ہونے والے افراد میں اضافہ ہوا۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، تازہ حملوں میں کم از کم 104 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 46 بچے شامل ہیں، جبکہ 253 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں ایک فلسطینی صحافی محمد المنیراوی اور ان کی اہلیہ بھی شامل ہیں، جو النصیرات میں ایک خیمے میں پناہ لیے ہوئے تھے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے اس لیے کیے گئے کیونکہ حماس یا کسی اور نے اسرائیلی فوجی پر حملہ کیا، اور اسرائیل کا جواب متوقع تھا۔ تاہم، حماس نے رفح کے قریب ہونے والے فائرنگ کے واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔