Jasarat News:
2026-07-24@04:40:35 GMT

ڈگڈگی بجاتے راج گھرانے

اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

یہ جو ہمارے ہاں جمہوریت کا ڈھونگ رچا ہوا ہے یہ درحقیقت موروثیت کا وہ شاخسانہ ہے کہ انسان زبانِ حال سے توبہ ہی کہے صاف نظر آتا ہے کہ ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ ایک خاندانی سلطنت کا ایسا کھیل ہے جو پشت در پشت چلا آ رہا ہے۔ جمہوریت؟ یہ تو محض نام بڑے اور درشن چھوٹے والا معاملہ رہ گیا ہے۔ یہ تو ایک کھوکھلی ڈگڈگی ہے جسے پردے کے پیچھے بیٹھا کوئی خاندان اپنی مرضی سے بجاتا ہے، باہر سے نعرہ بلند ہوتا ہے سب کا ساتھ سب کا وکاس مگر اندرونی حقیقت یہ ہے کہ جب دیکھو وہی پرانی دال وہی پرانا سالن یعنی باپ گیا تو بیٹا، بیٹا نہ ہو تو بھتیجا اور اگر وہ بھی دستیاب نہ ہو تو داماد صاحب وارث بن کر پگڑی سنبھال لیتے ہیں۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ عوام ہمیشہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں اور کرسی کی بغل گیری کا حق ہمیشہ ایک ہی خاندان کے لیے مخصوص ہو کر رہ گیا ہے۔
پہلے زمانے میں یہ موروثیت کا روگ صرف سیاست کی بغل تک محدود تھا مگر کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا کے مصداق اب تو یہ مرض چھوت کی طرح ہر جانب پھیل گیا ہے حیرت ہے اب تو سرکاری دفتروں کا حال یہ ہے کہ گویا یہ باپ دادا کی جاگیر ہوں جو تقسیم ہو رہی ہو محکمہ در محکمہ ایک موروثی لائسنس بٹ رہا ہے یہ موروثیت نہیں بلکہ ایک ایسا بڑا پیڑ ہے جس کے پھل ہمیشہ کڑوے ہی ہوتے ہیں۔
جب اہلیت اور لیاقت کی جگہ خاندان اور تعلق کی بنیاد پر کرسی مل جائے تو پھر اندھیر نگری چوپٹ راج کا سماں بننا تو یقینی ہے افسروں کے بچے بغیر دوڑ دھوپ کے وہی کرسی پر براجمان ہو جاتے ہیں گویا گھر کی مرغی دال برابر والا معاملہ ہے باہر کے لائق فائق جوان محض تماشائی بنے رہ جاتے ہیں جبکہ صاحب بہادر کا شہزادہ بڑے ٹھاٹھ باٹھ سے فائلوں پر دستخط کرتا ہے۔
یہ موروثی شاہزادے کرپشن نہیں کرتے بلکہ یوں سمجھیے کہ اپنے خاندانی حق کا بجٹ وصول کرتے ہیں۔ سامنے ہی بیٹھے مال ہڑپ کر رہے ہیں اور پوچھنے والا کوئی نہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ مرض نہیں بلکہ کوئی خاندانی تمغہ ہو جسے سینے پر سجا کر چچا غالب کی طرح اکڑ کر چلا جا رہا ہو یہ کرپشن ان کے لیے کوئی عیب نہیں بلکہ ایک خاندانی رسم ہے جسے وہ بڑے فخر سے نبھاتے ہیں۔
اب نوکریاں قابلیت سے نہیں بلکہ یہ دیکھ کر ملتی ہیں کہ آپ کا ماموں کس کرسی پر بیٹھا ہے یا آپ کی خالہ کس افسر کی اہلیہ ہیں اندھوں میں کانا راجا بن کر سارے نااہل رشتہ دار اہم عہدوں پر بڑے آرام سے براجمان ہو جاتے ہیں اور لائق لوگ محض منہ تکتے رہ جاتے ہیں یہاں سارا کام خیر سے نہیں بلکہ سفارش سے ہوتا ہے۔ چور چور مَو سیرا بھائی والی بات ہے ایک کرپٹ دوسرے کو تحفظ دیتا ہے۔
جمہوریت کا کیا کہیے یہ ہے بظاہر گْل؍ مگر حقیقت میں شاخسانہ ہے یہ موروثیت کا؍ ہر ایک منصب یہاں وراثت میں بٹ رہا ہے؍ گویا یہ ملک نہیں کوئی خاندانی جاگیر ہے؍ ہمارے حال پر ہنسنا تو بنتا ہے یارو
ہم نے خود ہی اپنے لیے یہ بیماری چْنی ہے۔
یہاں قانون صرف غریب کی پہچان کے لیے ہے جب کہ طاقتور کے لیے تو قانون ایک رَبر اسٹیمپ کی مانند ہے جسے جب چاہا مروڑ دیا یہ ناانصافی اب دین و ایمان بن چکی ہے اور غریب کی آہ کو سننے والا کوئی نہیں۔
یہ موروثیت تو ملک کے لیے زہر ِ ہلاہل سے کم نہیں جو پوری قوم کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہی ہے یہ جمہوریت ایک کاغذی شیر سے زیادہ کچھ نہیں جو صرف دکھاوے کے لیے کھڑا کیا گیا ہے حقیقی طاقت وہی خاندان ہے جو نسلوں سے تخت اور حکومت کو اپنا حق ِ وراثت سمجھتا آ رہا ہے۔
تو صاحبو خلاصۂ کلام یہ ہے کہ یہ جو ہمارے ہاں جمہوریت کی بڑی بڑی باتیں ہوتی ہیں نا یہ دراصل میاں کی دوڑ مسجد تک والی بات ہے ہمیں تو اب اس موروثیت کے مرض پر غم کم اور مسکراہٹ زیادہ آنی چاہیے کہ قوم نے خود ہی اپنی تقدیر کو خاندانی نائی کے ہاتھوں میں دے رکھا ہے جو ہر پانچ سال بعد ایک ہی پرانے اوزار سے نیا بال کاٹتا ہے۔
یہ موروثی شاہزادے کہتے ہیں کہ وہ ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ اللہ جھوٹ نہ بلوائے یہ خدمت نہیں ہے جناب یہ تو ان کی پشتینی دکان کی مفت کی دیہاڑی ہے جسے یہ بڑے سج دھج کر سمیٹتے ہیں اور عوام کو جمہوریت کے خوشنما خواب دکھا کر یہ دھن بجتی رہتی ہے۔
ڈگڈگی بجاتے راج گھرانے۔

خلیل الرحمن سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یہ موروثیت نہیں بلکہ جاتے ہیں ہیں اور ہے جسے گیا ہے رہا ہے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف