پابندی برقرار رہی تو انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے، شیخ حسینہ کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا / لندن:۔۔ بنگلادیش کی جلاوطن سابق وزیراعظم اور عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی جماعت پر پابندی برقرار رہی تو عوامی لیگ کے لاکھوں حامی آئندہ عام انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔
شیخ حسینہ جو اگست 2024ءسے بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں، نے کہا کہ وہ عوامی لیگ کے بغیر بننے والی کسی بھی حکومت کا حصہ نہیں بنیں گی اور نہ ہی وطن واپس آئیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ “عوامی لیگ پر پابندی نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ ملک کے لیے خود تباہ کن قدم ہے۔ لاکھوں لوگ ہمارے ساتھ ہیں، اگر ہمیں انتخابی عمل سے باہر رکھا گیا تو وہ لوگ ووٹ ڈالنے نہیں جائیں گے”۔
واضح رہے کہ بنگلادیش کے الیکشن کمیشن نے مئی 2025ءمیں عوامی لیگ کی رجسٹریشن معطل کر دی تھی، جس کے بعد عبوری حکومت نے قومی سلامتی کے خدشات اور رہنماو ¿ں کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کے باعث پارٹی کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔
شیخ حسینہ کے خلاف 2024ءمیں طلبہ مظاہروں پر کریک ڈائون کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات پر مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ بین الاقوامی جرائم ٹریبونل نے تحقیقات مکمل کر لی ہیں اور ان کے خلاف 11 نومبر کو فیصلہ متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ “میں ضرور وطن واپس آنا چاہتی ہوں، لیکن صرف اس وقت جب وہاں جائز حکومت، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ہو”۔ سابق وزیراعظم نے یہ بھی واضح کیا کہ عوامی لیگ کی قیادت صرف ان کے خاندان تک محدود نہیں۔ ان کے بیٹے سجیب واجد، جو واشنگٹن میں مقیم ہیں، نے گزشتہ سال کہا تھا کہ اگر ضرورت ہوئی تو وہ پارٹی قیادت سنبھالنے پر غور کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عوامی لیگ
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔