مغرب سے مخصوص موضوعات پر ڈرامے بنانے کے لیے فنڈنگ ہو رہی ہے، محمود اختر کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے سینئر اداکار محمود اختر نے حال ہی میں ایک گفتگو کے دوران ڈراموں کے بدلتے رجحانات اور مبینہ مغربی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
محمود اختر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران ڈرامہ سازی کے کئی مراحل دیکھے، تاہم موجودہ دور میں ڈراموں کا معیار اور موضوعات ان کی نظر میں تشویشناک انداز میں تبدیل ہو رہے ہیں اور یہ مغربی طرز اختیار کرتے جارہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں پاکستانی ڈرامے حقیقت پسندی اور مضبوط کہانیوں کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔ بعد ازاں ڈائجسٹ کہانیوں کی مقبولیت کے باعث مواد میں بتدریج تبدیلی آئی، مگر اب صورتحال اس سے بھی آگے بڑھ چکی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض مغربی ادارے مخصوص موضوعات پر ڈرامے بنانے کے لیے فنڈنگ کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ایسی اقدار اور رویے فروغ پا رہے ہیں جو پاکستانی معاشرتی اور ثقافتی روایات کے منافی ہیں۔
محمود اختر نے کہا کہ اس رجحان پر سنجیدگی سے بات نہیں ہو رہی، اس پر توجہ دینی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔